عرب بہار سے پاکستان بہار تک – سمیع اللہ خان

عرب بہار سے پاکستان بہار تک – سمیع اللہ خان

سات سال قبل تیونس میں مقامی حکومتی اہلکاروں نے ایک نوجوان سبزی و پھل فروش محمد البوعزیزی کو سٹال لگانے سے منع کیا اور مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا جس کے جواب میں اُس نے احتجاجاً خودسوزی کی اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

یہ واقعہ نقطہ آغاز تھاعرب دنیا میں اس سوشل میڈیا انقلاب کا جس کو بعد میں عرب بہار سے موسوم کیا جانے لگا۔

یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اس ماہِ رمضان پاکستان میں بھی پھلوں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک موثر عوامی مہم جاری ہے۔

اس مہم کی بدولت پھلوں کے کاروبار اور لین دین کے حوالے سے جاری مباحثے کے نتیجے میں لوگوں کی معلومات میں گھر بیٹھے منڈی،آڑھت،بیوپاری اور صارف سے متعلق خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

اس مہم کی کامیابی اور ناکامی کا تعین مشکل ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو جو یکجہتی اور ایکا اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے وہ کسی پاکستانی بہار کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں؟

کیا یہ ممکن ہے کراچی سے خیبر و گلگت بلتستان تک عوامی بیداری کی اس لہر کو منظم کیا جاۓ؟

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اس بیداری کو حقیقی عوامی سائبر حکمرانی میں تبدیل کردیا جاۓ۔

آپ تصور کریں کہ اگر لوگوں کا اس نقطے پر اتحاد ہوجاۓ کہ بنا کسی مسلکی،گروہی اور سیاسی تفریق کے سوشل میڈیا کو عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاۓ تو کیا خیال ہے کہ وہ تمام اہداف پورے نہیں ہونگے جو کہ مطلوب ہیں؟

اس مہم کو ایک مستقل سائبر ادارے کی شکل میں ڈالنے کے لیے ہر فرد کوشش کرسکتا ہے۔ اس سائبر برادری کا منشور نفاذِآئین وقانونِ پاکستان ہونا چاہیے۔

باقی اس کے خدوخال کیا ہون گے اس پر بات ہوسکتی ہے مگر یہ بات یقینی ہے کہ اگر اپنی ذات سے اُٹھ کر اور بے لوث قدم اُٹھایا جاۓ تو نہ صرف یہ کہ حکمرانوں کو بلکہ اپوزیشن اور ہر سیاسی جماعت کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ میرٹ کا احترام اور اس کی بالادستی کو اپنا منشور بنائے۔ یعنی منشور عوام پیش کرے گی۔اور وہ ہے آئین وقانونِ کی بالادستی۔

گو کہ تیونس کی وہ خاتون اہلکار فایدہ حمدی جس نے نوجوان سبزی فروش کو سٹال لگانے سے منع کیا تھا خود کو موجودہ عرب دنیا کی تباہی کا ذمہ دار گردانتی رہی ہے کہ یہ سب اُس کی وجہ سے شروع ہوا تھا،مگر حقیقت یہ ہے کہ عرب بیداری بعد میں سیاسی اور گروہی تعصبات کی بھینٹ چڑھی جس کی وجہ سے عرب دنیا خانہ جنگی کا شکار ہوئی۔

عرب دنیا کے اکثر ملکوں کا مسلۂ پاکستان سے یوں مختلف ہے کہ وہاں پر جمہوریت اور متفقہ آئین کا حصول جیسے بڑے مسائل تھے مگر پاکستان میں الحمدللّٰہ ایک متفقہ آئین موجود ہے۔ نظام کمزور ہے مگر قابل اصلاح ہے۔جمہوری عمل کی اکثریت حامی ہے۔ ایسے میں اس پاکستانی بہار کی کامیابی کے امکانات کافی روشن ہیں۔شاید کہ رمضان میں قیامِ پاکستان کی طرح تکمیلِ پاکستان کی تحریک کاآغاز ہوجائے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *