وطن کی محبت میں ایساکیا،قاتل امریکی کی منطق

وطن کی محبت میں ایساکیا،قاتل امریکی کی منطق

پورٹ لینڈ: سفید فام عصبیت کی بنا پردو نوجوان مسلم خواتین کو چھیڑنے سے روکے جانے پر دو افراد کو قتل کرنے والے امریکی کا کہنا ہے کہ اس نے وطن کی محبت میں ایسا کیا۔

جمعہ کو امریکا میں یکم رمضان کے موقع پر دن دیہاڑے جرمی جوزف کرسچن نامی امریکی نے حجاب پہنے خاتون سمیت دو مسلم خواتین کو پہلے بدکلامی کا نشانہ بنایا،اس موقع پر ٹرین میں سوار تین افراد نے اسے ایسا کرنے سے روکا تو کرسچن نے دو کو خنجر کے وار کر کے قتل اور ایک کو زخمی کر دیا۔

پینتیس سالہ کرسچن کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے چیختے ہوئے کہا کہ تم لوگ اسے دہشتگردی کہتے ہو جب کہ میں اسے وطن کی محبت سمجھتا ہوں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ورلڈ ڈیسک کو دستیاب اطلاعات کے مطابق سفید فام نسل پرست امریکی نے اس موقع پر کہا کہ تم لوگ کہیں محفوظ جگہ نہیں پائوگے،امریکا کے مخالفوں کے لئے صرف موت ہے۔

عدالت میں جمع کروائے گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد پولیس کار میں ہی کرسچن نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد تارکین وطن خصوصا مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی پر مبنی دہشتگردی کی کئی کارروائیاں میڈیا رپورٹس کا حصہ بنی ہیں۔

امریکی میڈیا کو بھی باامر مجبوری تسلیم کرنا پڑا ہے کہ نسل پرستی کے اقدامات میں تیزی آئی ہے،اگر چہ وہ اسے علاقائی نسلی تعصب قرار دیتے ہیں تاہم ایسا کرنے والی امریکی صدر کی جانب سے تارکین وطن باالخصوص چھ مسلم ملکوں کے خلاف پابندی کے اعلان کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتے۔

پورٹ لینڈ کے مئیر ٹیڈ وہیلرز کے دفتر سے جاری بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہونے والے نسل پرستی کے واقعات میں پورٹ لینڈ سب سے آگے ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *