سونے سے بنے سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ

سونے سے بنے سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ

واشنگٹن: ناسا نے 2022 کے موسمِ گرما میں پلاٹینم اور سونے سے بنے سیارچے کی جانب ایک خلائی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق  ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ سیارچہ سونے اور پلاٹینم سے بنا ہے جس میں فولاد اور جست (نِکل) بھی شامل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارچہ بہت دور نہیں بلکہ مریخ (مارس) اور مشتری ( جوپیٹر) کے درمیان ایک سیارچی پٹی میں گردش کررہا ہے جو ہمارے سورج کی پیدائش کے ایک کروڑ سال سے بھی کم عرصے میں پیدا ہو گیا تھا۔

ناسا کے مطابق ایسٹرائڈ پر تحقیق سے خود نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے میں مدد مل سکے گی۔

ناسا نے سیارچے پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو ڈسکوری مشن کا نام دیا ہے جسے 2022 میں زمین سے بھیجا جائے گا اور وہ 4 سال بعد 2026 میں ایسٹرائڈ تک پہنچے گا،سیارچے کو 16 سائیکے،کا نام دیا گیا ہے جو سونے،چاندی اور پلاٹینم سے مالا مال ہے۔

ماہرین اس کی مالیت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ خلا میں تیرتا ہوا خزانہ ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر لگایا گیا ہے جو 1,000,000,000,000,000,000,0 ڈالر کے برابر ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *