موجودہ کاریں 8 برسوں میں ختم ہو جائیں گی،انکشاف

موجودہ کاریں 8 برسوں میں ختم ہو جائیں گی،انکشاف

سٹینفورڈ: اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں  کی تجویز نے ٹرانسپورٹیشن بزنس کو کافی متاثر کیا ہے جبکہ آئل کمپنیز جیسا کہ شیل کا ماننا ہے کہ ابھی تک فیول کاروں سے بھی پوری طرح مستفید نہیں ہوا جاسکا

پاکستان ٹرائب ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق سٹینفورڈ اکنامسٹ ٹونی سیبا نے دعوی کیا ہے کہ جلد ہی تیل کا عالمی کاروبار اختتام کو پہنچ جائے گا اور اس کی وجہ ٹرانسپورٹ کے شعبے می بجلی کی مصنوعات کی آمد ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ فیول پر چلنے والی کاریں اگلے آٹھ سال میں ختم ہو جائیں گی اور لوگوں کے پاس بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر انویسٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک تمام ٹرنسپورٹ جن میں کاریں،ویگنز،بسیں،ٹریکٹرز اور ٹرک شامل ہیں بجلی پر چلیں گی۔

یونیورسٹی کی جانب سے اس  تحقیق کو ری تھنک ٹرانسوٹیشن 2020  ٹو 2030 کا نام دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بجلی سے چلنے والی ٹرنسپورٹ لوگوں کو بہت پسند آئے گی کیونکہ ان گاڑیوں کو فیول پر چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں مینٹین کرنے میں 10 گنا کم خرچہ آئے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول پر چلنے والی گاڑیوں کی اوسط عمر اتنی ہوتی ہے کہ وہ ایک لاکھ میل تک چل سکتی ہیں جبکہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ 10 لاکھ میل تک چلنے کی صؒاحیت رکھتی ہوں گی۔

یاد رہے کہ دنیا کی چند بڑی کمپنیوں جیسا کہ مرسیڈیز،بینز،وولوو،آئودی،ووکس ویگن وغیرہ نے پہلے سے ہی بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *