وزیر اعظم کو قطری خط بچانے آیا اور کلبھوشن کو قطری وکیل نے بچا لیا۔اہم انکشاف

وزیر اعظم کو قطری خط  بچانے آیا اور کلبھوشن کو قطری وکیل نے بچا لیا۔اہم انکشاف

اسلام آباد:سینئر قانون دان بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پاناما فیصلے سے قبل قطری خط آگیا تھا اور کلبھوشن کیس میں قطری وکیل آگیا۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کیس عالمی عدالت میں کمزور نہیں تھا لیکن ہمارے وکلاء تیار نہیں تھے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وکلاء نے عالمی عدالت کے دائرہ کار کے اختیار کو تحریری طور پر چیلنج نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے آج تک کلبھوشن کو جاسوس نہیں کہا،انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت میں سماعت کی ہمیں اتنی جلدی کیوں تھی۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہمارے وکلاء کے پاس دلائل کے لیے 90 منٹ تھے اور انہوں نے 50 منٹ میں دلائل ختم کر لیے۔

یاد رہے گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا ہے عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک پھانسی نہ دی جائے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *