اسلام آبادمیں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ

اسلام آبادمیں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کا کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کے لئے تقریبا ایک دہائی سے تعطل کا شکار فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے تحت شہر کے اہم مقام کی ماحولیاتی تباہی یقینی ہے۔

منصوبے کے متعلق سامنے آنے والی اطلاع کے مطابق تمام متعلقہ اداروں سے متعدد بار گفت و شنید کے بعد کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ ایم او یو سائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کے تحت کرکٹ اسٹیڈیم قائم کرنے کے بعد اس کی آمدن کا ستر فیصد پی سی بی جب کہ تیس فیصد سی ڈی اے کو ملا کرے گا۔

منصوبے کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق اسٹیڈیم میں 50 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہو گی،کرکٹ اکیڈمی کے علاوہ ایک فائیواسٹار ہوٹل بھی تعمیر کیا جائے گا۔

ایم او یو کے تحت پی سی بی کو وفاقی دارالحکومت میں قدرتی جنگلات کی موجودگی کے چند مقامات میں سے ایک شکرپڑیاں کے مقام پر 35 ایکڑ زمین الاٹ کی جائے گی۔ مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ڈومیسٹک اور بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 2008 میں سی ڈی اے نے پی سی بی کو 40 ایکڑ زمین 35 سالہ لیز پر مہیا کی تھی تاہم گزشتہ برس یہ لیز منسوخ کر دی گئی تھی جس کی وجہ  2008 کے بعد سے اسٹیڈیم کے لئے تعمیراتی کام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہونا بتائی گئی تھی۔

اسلام آباد کرکٹ اسٹیڈیم کے لئے مختص جگہ کے بارے میں مسلسل منفی رائے سامنے آتی رہی ہے۔ تحفظات ظاہر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں قدرتی جنگلات رکھنے والا مرکزی علاقے ہونے کے ناطے شکرپڑیاں اس منصوبے کے لئے موزوں نہیں ہے۔

مذکورہ حلقوں کا درست خدشہ ہے کہ شہر میں پہلے ہی درختوں کی کٹائی اور نئے نہ لگانے کی وجہ سے درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے پانی کی سطح بھی خوفناک حد تک گر چکی ہے۔

proposed place for Islamabad Cricket Stadium stadium project | pakistantribe.com/urdu/آئی سی سی کے سابق چئیرمین احسان مانی نے اسلام آباد میں اسٹیڈیم کا خیال مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں آبادی زیادہ نہیں ہے،ایسے میں اسٹیڈیم بنایا گیا تو وہ سفید ہاتھی بن جائے گا کیونکہ بڑے اسٹیڈیمز معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتے اور انہیں برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

دریں اثناء پاکستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) اور نیشنل کونسل فار کنزرویشن آف وائلڈ لائف (این سی سی ڈبلیو) یا محکمہ تحفظ جنگلی حیاتیات بھی اول روز سے منصوبے کے مخالف ہیں۔

مذکورہ اداروں کا موقف ہے کہ اسٹیڈیم کی جگہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک (ایم ایچ این پی) کے تحت آتی ہے،اس طرح کا منصوبہ اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس 1979 اور شہر کے ماسٹر پلان کے برخلاف ہو گا۔

اسٹیڈیم کے منصوبے کے حوالے سے مسلسل یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ 2 ارب روپے کی رقم سمیت دیگرتوانائیاں ایسی صورت میں ضائع کی جائیں گی جب شکرپڑیاں میں پہلے سے موجود اسپورٹس سینٹر ہی استعمال نہیں کیا جاتا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *