آپ 30 سال کے ہو گئے ہیں تو یہ اصول اپنائیں

آپ 30 سال کے ہو گئے ہیں تو یہ اصول اپنائیں

لندن: اگر آپ اپنی تیسویں سالگرہ منانے والے ہیں تو آپ زندگی ایک اہم سنگ میل عبور کرنے والے ہیں لیکن یہ زندگی کے سفر میں صرف ایک پڑاو ہے،اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جو بہت اہمیت رکھتا ہے اگر یہاں آپ نے زندگی زندگی کے کچھ اصول مرتب نہ کئے تو درمیانی عمر کے بحران سے دوچار  ہو جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق 30 کی عمر کو پہنچتے ہی آپ کو سب سے پہلے خود کو پیشہ ورانہ طور پر مضبوط بنانا ہوگا،اپنی صلاحیتوں کو روز بروز بڑھانا ہوگا تبھی 40 سال کی عمر تک پہنچ کر آپ زندگی میں بہتر مقام حاصل کر پائیں گے مگر یہاں تک پہنچنے کے لئے آپ کو چند پہلووں پر غور کرنا ہوگا۔

بچت کا لازمی آغاز

20 سال کی عمر بے پرواہی کی ہوتی ہے اور اس کے بعد 30 سال تک کی عمر تک اخراجات پر قابو پانا  مشکل ہوتا ہے۔

آپ کماتے ایک ہزار ہوں تو ارادے دس ہزار خرچ کرنے کے ہوتے ہیں لیکن 30 سال کی عمر کے بعد آپ کو لازمی بچت اختیار کرنا ہوگی۔

آپ کے والدین،بیوی اور بچے آپ کی شاہ خرچیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لئے پہلے کوشش کریں کہ کم از کم 10 فیصد بچت کو ضرور خود پر لازم کریں،آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ معمولی بچت بھی بعد میں آپ کے لئے کتنی فائدے مند ثابت ہو گی۔

صحت کا خیال

اگر آپ تیس سال کو پہنچ چکے ہیں تو یاد رکھیں اب آپ کا جسم ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچھے کی طرف جائے گا،اب جوانی گزرتی جا رہی ہے اس لئے صحت کی طرف سے بے پرواہی نہیں چلے گی،اب آپ کو بہتر نیند،بہتر خوراک اور ورزش کی ضرورت ہے،اپنی صحت کا خیال رکھنا ابھی سے شروع کریں ورنہ بڑھاپے میں سخت پریشانی ہوگی۔

ترجیحات کا تعین

اس عمر میں یہ بات آپ کو سمجھ لینی چایئے کہ آپ تمام کام خود نہیں کر سکتے،پروفیشنل دنیا میں اب ہر فن مولا کا کوئی تصور نہیں ہے،یہ اسپیشلائزیشن کا دور ہے اور آپ کو بھی اسپیشلسٹ  بننا پڑے گا۔

جو کام آپ کو سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے اپنی تمام توجہ اسے دیں،دو کشتیوں کی سواری سے آپ کو نقصان پہنچے گا۔

خطرات سے کھیلیں

زندگی کی تین دہایاں گزارنے کے بعد آپ کو تعین کر لینا چایئے کہ زندگی کو کس راہ پر چلانا ہے،امید ہے تعلیم مکمل ہو چکی ہوگی،اپنا شعبہ بھی اپنا لیا ہوگا،شادی اور بچے بھی ہو گئے ہوں گے،ایک شاندار زندگی کی بنیاد پڑ چکی ہوگی،اب آپ نے اس مرحلے پر ایک عمارت کھڑی کرنی ہے لیکن اس کے لئے  آپ کو اعتماد بڑھانا ہوگا اور خطرہ مول لینا سیکھنا ہو گا۔

نئی ملازمت کے لئے،کاروبار کو آگے بڑھانے کے لئے،جہاں بھی موقع ملے آگے بڑھیں اگر خدانخواستہ کسی کام میں بظاہر ناکامی بھی ہوئی ہو تو جب آپ 40 سال کے ہوں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ نے کتنا سیکھا ہے۔

سیکھیں،سیکھیں اور زیادہ سیکھیں

ایک بار زندگی میں ٹھہراو آجائے تو لوگ سیکھنا بند کر دیتے ہیں،وہ طے شدہ ڈگر پر ہی زندگی کو چلانا شروع کر دیتے ہیں،ایسا ہر گز نہ کریں،اگر آپ 35 سال کی عمر میں تعلیم کا موقع پاتے ہیں تو ضرور حاصل کریں،کوئی نیا کورس،نئی ڈگری،نیا علم،نئی ٹیکنیک یا ٹریننگ حاصل کریں اور ہاں ٹیکنالوجی میں بہت تیزی آرہی ہے اس کے ساتھ آگے بڑھیں،آج کمپیوٹر ناخواندہ شخص مکمل ناخواندہ شمار ہوتا ہے۔

خاندان کو ترجیح

دس سال پہلے یعنی 20 سال کی عمر میں جو لاابالی پن تھا اس سے نکل آیئے،اس عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ آپ ہی خاندان کے لئے سب کچھ ہیں،وہ وقت گزر گیا جب آپ کو والدین تنگ نظر اور سخت گیر نظر آتے تھے۔

اس عمر میں آپ کو معلوم ہو چکا ہوگا کہ ان سے زیادہ آپ کا کوئی خیر خواہ نہیں،اس کے علاوہ آگر آپ بھی صاحب اولاد ہو گئے ہیں تو خاندان کو ترجیح دیں۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ سب کچھ اولاد ہی کے لئے تو کر رہے ہیں تو بس اس کو ٹھیک سمجھتے ہوئے اپنے رشتوں اور تعلقات کو اہمیت دیں،زندگی انہی  کے دم سے ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *