انوکھے اعزاز کا مالک پاکستانی کرکٹرکرسیاں بن کرزندگی گزارنے پر مجبور

انوکھے اعزاز کا مالک پاکستانی کرکٹرکرسیاں بن کرزندگی گزارنے پر مجبور

کراچی: شاید بہت کم لوگوں کو یہ بات یاد ہو کہ 2002 میں اپنی روایتی دشمنی سے باز نہ آنے والے بھارت نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کو انعامات دینے کی تقریب میں قومی ترانہ نہیں بجایا،جس پر ایک پاکستانی کھلاڑی نے انعام لینے سے انکار کردیا۔ میڈیا کیمروں کے سامنے پکڑی گئی اس حرکت پر بھارتی منتظمین نے کھسیانے ہو کر پاکستان کا قومی ترانہ چلا ہی دیا۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام اسپورٹس ڈیسک کے مطابق شدید کشیدگی کے دور میں ہندوستان کی فضاؤں میں پاکستانی ترانہ بکھیرنے والا یہ قابل فخر سپوت کوئی اور نہیں بلکہ نابینا ٹیم کے کھلاڑی محمد وقاص ہیں جواپنی،دو بیویوں اور بچوں کی گزربسر کے لئے کرسیاں بن کر بیچنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کے لئے بین الاقوامی میدانوں میں ناقابل فراموش کامیابیاں سمیٹنے والی قومی بلائنڈ کرکٹ ٹیم مناسب رویوں کی منتظر ہے۔ اسی کا اظہار محمد وقاص کی گفتگو سے بھی ہوتا ہے۔

اپنی بہترین کارکردگی سے قومی ٹیم کو متعدد فتوحات دلانے والے محمد وقاص دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں،جنہوں نے بلائنڈ کرکٹ میں انڈر آرم بالر کو 2 چھکے لگائے۔

محمد وقاص پاکستانی بلائنڈ ٹیم کی فتوحات کا حصہ بننے پر خود کو خوش نصیب قرار دیتے ہیں۔ انہیں کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے مگر گریجویشن نہ کرسکنے کا افسوس بھی ہے۔ محمد وقاص کی دو بیویاں اور 2 بچے ہیں جو کہ نارمل ہیں۔

محمد وقاص انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلنے کو فیورٹ قرار دیتے ہیں، جب کہ انہوں نے عالمی سطح پر 60 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور وہ جنوبی افریقہ،انگلینڈ،دبئی،انڈیا اور آسٹریلیا میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ 2002ء میں انگلینڈ سیریز میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے محمد وقاص کو جو سرٹیفکیٹ دیا۔ وہ ان کے بقول ان کی زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے۔

2002ء میں ہی انڈیا ہی میں بیسٹ باؤلر کا اعزاز9 وکٹیں حاصل کرکے اپنے نام کیا۔ 2004ء اور 2005ء انگلینڈ پاکستان سیریز میں پھر بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

محمد وقاص کو 2004ء میں اسپیشل ایجوکیشن کوٹے میں حکومت پاکستان نے چھٹے اسکیل میں ملازمت دی۔ یہ ایک کین ورکر کی جاب ہے جہاں محمد جہاں وقاص کرسیاں بُنتے ہیں۔ ان کے بقول یہ کام جیلوں میں موجود قیدی بھی کرتے ہیں،وہی کام ان سے لیا جارہا ہے۔ قومی ہیروز کے ساتھ یہ برتاؤ محمد وقاص کے لیے دھچکے سے کم نہیں کہ ان کے مطابق 2002ء میں وہ خود ویزا فیس ادا کرکے انگلینڈ گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے بلائنڈ کرکٹ بورڈ نے کوئی معاونت نہیں کی۔ انہیں 2002ء میں مشرف حکومت کے دور میں ایک لاکھ روپے ورلڈ کپ جیتنے کی خوشی میں دیے گئے اور 2006ء میں بھی ایک لاکھ روپے دیے گئے۔

وقاص کے مطابق 2007ء سے قبل تک انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا انہیں کوئی بھی معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا،لیکن 2007ء میں انٹرنیشنل ون ڈے میچ کا 5000/جب کہ T20کا 2500اور ڈومیسٹک ون ڈے یا T20جو پاکستان بلائنڈ کرکٹ بورڈ PCB اسپانسر کر ے 500 محض ملتے اور کلب کی سطح پر تو کچھ بھی نہیں ملتا۔

2015ء سے T20،5000جب کہ ون ڈے 10000اور ڈومیسٹک میں 500روپے مقرر کیے گئے۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کیٹس وغیرہ بھی مشکل فراہم کرتا ہے۔ ان کو بھی ابھی تک رہائشی کوارٹر تک الاٹ نہیں ہوا اور وہ کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں۔

محمد وقاص بھی بصارت سے محروم کرکٹر ہیں۔ سفید چھڑی اور گائیڈ کے ساتھ زندگی گزارنے والے محمد وقاص کا آبائی علاقہ لکھن وال ضلع گجرات ہے۔ ان کے والد پاکستان آرمی میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کے 4 بھائی اور 2 بہنیں ہیں،جو بالکل نارمل ہیں۔ بہن بھائیوں میں ان کا نمبر دوسرا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *