خواتین حکمران،مرد حکمرانوں سے زیادہ جنگجو

خواتین حکمران،مرد حکمرانوں سے زیادہ جنگجو

شکاگو: شکاگو یونیورسٹی کے ماہرین انکشاف کیا ہے کہ گزرے ہوئے وقتوں میں خواتین حکمران،مرد حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ جنگجو واقع ہوئی ہیں اور جتنی بھی خواتین حکمران گزری ہیں انہوں نے ان کے مقابلے میں زیادہ جنگیں لڑی ہیں۔

ماہرین کی ایک ٹیم نے 1480 سے 1923 تک کے دور میں مرد حکمرانوں(بادشاہوں)اور خواتین حکمرانوں(ملکہ)کی جنگی مہم  جوہی پر تحقیق کی ہے جس سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خواتین حکمرانوں نے مرد حکمرانوں کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ جنگیں لڑی ہیں۔

ماہرین نے اسپین اور یورپی ممالک میں خواتین حکمرانوں کے دور حکومت پر ریسرچ کی ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اس دور کی ملکائیں زیادہ جنگجو واقع ہوئی ہیں۔

ماہرین نے اس تحقیق کو(ملکہ کے ساتھ پنگا مہنگا پڑے گا)کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاستوں  پر راج کرنے والی خواتین کسی بھی جنگ وجدل سے نہیں کتراتی تھیں اور جنگ میں کود جاتی تھیں جبکہ مرد حکمران حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ جنگ کی نوبت نہ آئے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت کی رانیوں کی جنگ میں زیادہ دلچسپی کی وجہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کی خواہش تھی،اس کے علاوہ وہ اپنی رعایا کے سامنے خود کو کمزور ثابت کرنا نہیں چاہتی تھیں جس کی وجہ سے کئی جنگیں ایسی بھی لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *