‘شریف خاندان کونئی زندگی،آئندہ وزیراعظم مریم نواز’

‘شریف خاندان کونئی زندگی،آئندہ وزیراعظم مریم نواز’

اسلام آباد: پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن پر حالات حاضرہ پروگرام کے میزبان اور معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ ملک میں حکمراں خاندان یعنی شریف فیملی کی جانب سے آئندہ وزیراعظم مریم نواز شریف ہوں گی۔

اتوار کوسامنے آنے والی اطلاعات میں ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کا اکلوتا فائدہ مریم نواز کو ہوا ہے۔

جاوید چوہدری نے اپنے اس دعوے کے ثبوت میں دلادئل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اگر ٹھنڈے دماغ سے پانامہ کیس کے فیصلے کا تجزیہ کریں تو ہمیں اس فیصلے کا صرف ایک ’’بینی فیشل اونر‘‘ ملے گا اور وہ ’’اونر‘‘ ہیں مریم نواز شریف‘عدالت نے انھیں مکمل ’’بری‘‘ کر دیا چنانچہ مستقبل کی سیاست اب مریم نواز اور بلاول بھٹو کے گرد گھومے گی۔

جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ مریم نواز 2018ء کے الیکشنوں میں وزیراعظم بن کر ابھریں گی جب کہ آصف علی زرداری مزید تجربے اور مہارت کے لیے بلاول بھٹو کو سندھ کا وزیراعلیٰ بنا دیں گے۔

نوازشریف کا سیاسی کیرئیر ختم ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کالم نگار کا کہنا تھا کہ ہم اگر پانچ رکنی بینچ کا پورا فیصلہ پڑھیں تو خوفناک حقائق سامنے آتے ہیں‘ وہ حقائق کیا ہیں؟ وہ حقائق یہ ہیں‘ شریف فیملی نے نیلسن اور نیسکول جیسی آف شور کمپنیوں کے بارے میں جو دستاویزات عدالت میں پیش کیں پانچوں جج ان سے مطمئن نہیں ہیں‘یہ انھیں ثبوت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ جج صاحبان شریف خاندان کی منی ٹریل سے بھی مطمئن نہیں ہوئے۔

یہ گلف اسٹیل مل‘ گلف اسٹیل مل کی فروخت‘ رقم قطر بھجوانے‘ جدہ اسٹیل مل‘ جدہ اسٹیل مل کی فروخت اور اس فروخت سے لندن میں کاروبار کی داستان سے بھی مطمئن نہیں ہیں‘ یہ قطری شہزادے کے خط سے بھی متاثر نہیں ہوئے اور جج صاحبان یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ شریف فیملی نے چار فلیٹس 2006ء میں خریدے تھے اور یہ 1992ء سے شریف فیملی کی ملکیت نہیں ہیں‘ جج صاحبان نے حدیبیہ پیپر مل اور التوفیق بینک کے ایشو پر بھی شریف فیملی کا موقف تسلیم نہیں کیا۔

عدالت نے یہ بھی تسلیم نہیں کیا یہ تمام معاملہ دادا اور پوتے کے درمیان تھا اور میاں نواز شریف اس میں شامل نہیں تھے اور جج صاحبان نے یہ بھی تسلیم نہیں کیا ’’شریف فیملی نے کسی قسم کی منی لانڈرنگ نہیں کی‘‘ چنانچہ عدالت نے تحقیقات اور کاغذات کی تصدیق کے لیے مشترکہ تفتیشی ٹیم بنا دی‘ عدالت اس ٹیم کی نگرانی کرے گی۔

جے آئی ٹی کے متعلق اپنا خیال ظاہر ہوئے جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹیم جب شریف فیملی سے کاغذات مانگے گی‘ جب ان کاغذات کی تصدیق ہو گی‘ جب ثبوت طلب کیے جائیں گے اور جب یہ ثبوت حقائق اور قوانین کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے تو یہ سارا معاملہ کھلتا چلا جائے گا‘ میرا خیال ہے شریف فیملی تفتیشی ٹیم کے سامنے ہرگز یہ نہیں کہہ سکے گی‘ ہمارے پاس مزید ثبوت نہیں ہیں یا ہمارے سارے کاغذات 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے ضبط کر لیے تھے یا 1976ء میں سرمایہ اونٹوں یا صندوقوں پر دوبئی گیا تھا۔

نواز شریف کے سیاست سے باہر ہو جانے کی وجہ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کو تفتیشی ٹیم کے سامنے ثبوت اور کاغذات بہرحال پیش کرنا پڑیں گے اور یہ ان لوگوں کے لیے آسان نہیں ہو گا کیونکہ یہ جو بھی کاغذ اور ثبوت ٹیم کے سامنے رکھیں گے‘ وہ ثبوت اور وہ کاغذ نیا پنڈورا باکس کھول دے گا اور یوں ایک کے بعد ایک نیا کیس کھلتا چلا جائے گا‘ ہمیں عدالت کے اس فیصلے کے بعد یہ بھی ماننا ہوگا تفتیشی ٹیم کے قیام کے بعد پانامہ لیکس پیچھے رہ جائیں گی اور شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش شروع ہو جائے گی اور یہ تفتیش بالآخر میاں نواز شریف کی ڈس کوالی فکیشن پر ختم ہوگی۔

ہماری فیصلہ ساز قوتوں کی پوری کوشش ہوگی میاں نواز شریف 2018ء کا الیکشن نہ لڑ سکیں خواہ انھیں روکنے کے لیے ان قوتوں کو آصف علی زرداری ہی کو آگے کیوں نہ لانا پڑے‘ یہ لے کر آئیں گی‘ میرا خیال ہے میاں نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی ’’جے آئی ٹی‘‘ سے بچا سکتا ہے‘ یہ اپنی مرضی کی تفتیشی ٹیم بنانے‘ یہ تفتیش سے بچنے‘ تفتیش کے عمل کو لمبا کرنے اور عدالت میں دوبارہ کیس لڑنے کی کوشش کریں گے لیکن یہ تمام نسخے شاید اب کارگر ثابت نہ ہوں‘ یہ شاید اب نہ بچ سکیں‘ یہ درست ہے یہ بے انتہا خوش قسمت انسان ہیں اور قدرت انھیں تمام بحرانوں سے بچا لیتی ہے لیکن شاید ان کی خوش قسمتی کی ’’ایکسپائری‘‘ تاریخ آ چکی ہے۔

پاکستانی کالمسٹ اور ٹی وی میزبان کا دعوی تھا کہ آصف علی زرداری اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہو رہے ہیں‘ یہ قربت ان کے ساتھیوں کی رہائی کی شکل میں بھی سامنے آ رہی ہے اور ان کی پاکستان میں موجودگی کی صورت میں بھی‘ میاں صاحب نے اگر حالات کی نزاکت کا اندازہ نہ لگایا تو یہ قربت بڑھتی چلی جائے گی یہاں تک کہ 2017ء کے آخر تک ’’زرداری‘ اگلی باری‘‘ ہو جائیں گے اور مصطفی کمال‘ فاروق ستار‘ مولانا فضل الرحمن اور چوہدری صاحبان انھیں جوائن کر لیں گے اور اگر میاں صاحب حالات کی نزاکت کو سمجھ گئے‘ یہ پسپا ہو گئے۔

عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور یہ نئے چہرے سامنے لے آئے تو اگلی حکومت بھی پاکستان مسلم لیگ ن بنا لے گی اور یوں شریف فیملی کا اقتدار وسیع ہو جائے گا‘ میاں نواز شریف پارٹی چلائیں گے‘ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں گے اور مریم نواز وزیراعظم ہوں گی‘۔

نوازشریف کو مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کے لیے یہی بہتر ہے یہ عدلیہ کی دی ہوئی ’’لائف لائین‘‘ کو تسلیم کر لیں‘ یہ خود پیچھے ہٹ جائیں اور مریم نواز کو آگے لے آئیں‘ یہ میاں صاحبان اور ملک دونوں کے لیے بہتر ہوگا ورنہ دوسری صورت میں مکمل تباہی ہے۔

Shahid Abbasi

Shahid Abbasi is a Founder and Editor of Pakistan's fastest growing indepednent and bilingual news website, pakistantribe.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *