نصاب کا حصہ بننا ہے؟ – اقصی شاہد

نصاب کا حصہ بننا ہے؟ – اقصی شاہد

کوئی کہتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حالات یہاں تک پہنچائے،کسی کا ماننا ہے کہ لسانیت کے نام پرپختونوں پرمسلط تنظیم کی مرکزی قیادت کے قریب رہنے والوں نے مشال کے روس پلٹ ہونے کے بعد دہریت اختیار کرنے کی خبریں دیں۔

13 اپریل کی شام کو قتل ہوجانے تک منظم مہم چلائی،

ایسا کرنے والوں کی تحسین کی،

ٹی وی اسکرین پر آکرآپ نے کہا کہ مشال کو نہ بچاسکنے پر اس سے شرمندہ ہیں،

جبکہ مرکزی ملزم کے طور پر ریمانڈ پانے والا کہتا ہے کہ میں جب بلاوے پر یونیورسٹی کے ایک آفس پہنچا تو وہاں آپ بھی تشریف فرما تھے،

کہتے ہیں کہ مشال کو انسانیت پسند اور کامریڈ کہتے تھے لیکن پشاور یونیورسٹی میں آپ کے صدارتی امیدوار نے مشال کو موت کے حوالے کرنے والوں کو عظیم مجاہد قرار دیا،

یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ مشال نے حقیقت میں کچھ کیا بھی تھا یا نہیں،اور اس کا جو جواب دیا گیا وہ کیا اتنا ہی سیدھا سادا ہے جتنا بتایا جا رہا ہے،لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشال کے لہو کے خشک ہونے سے قبل آپ پھر اپنا منجن بیچنے آپہنچے،

ذرا سنیں تو سہی فرماتے کیا ہیں!

کہتے ہیں،نصاب میں غازی علم دین شہید کے بجائے مشال کو شامل کیا جائے۔

آپ سے صرف ایک التجا ہے،دردمندانہ فریاد ہے،

اگر آپ خود کسی بات پر کلئیر نہیں ہیں تو خدارا

کچے ذہنوں کو مت اس آگ کا ایندھن بنائیں جسے آپ نے کل صرف فکری ارتقاء کہہ کر ترک کردینا ہے۔

ورنہ ابھی بھی آپ انتہائی حساس ترین مسئلہ کی حقیقی وجوہات کا تدارک کرنے کے بجائے،ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اپنے الٹے سیدھے فلسفوں کو کچے ذہنوں میں ٹھونسے کی روش پرچل رہے ہیں،

کل بھی یہی کرتے رہیں گے،

اورپھر

نصاب میں شامل کرنے کے لئے نیا عنوان ڈھونڈ لائیں گے۔

اگر بھول گئے ہیں تو ابھی کچھ ہی دن قبل کی بات ہے جب بھینسے اور موچی کے نام پر آپ کو فکر پڑی تھی،

یورپ کے ایوانوں میں پہنچ کر آپ نے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کی ‘ڈیمانڈ’ کرڈالی تھی،

کلبھوشن کوٹانگنے کا اعلان ہوا تو مودی سرکار کو بھی اپنے سگے کے دفاع کے لئے آپ ہی کے نام یاد آئے

لیکن

قوم اب جان چکی ہے کہ آپ کو اصل مسئلہ

اسلام اور مسلمان سے ہے،دین کی ہر بنیاد سے ہے،پالنہار اور مالک کون و مکان سے ہے،وجہ تخلیق کائنات  سے ہے

لیکن ان پربات کرتے ہوئے ‘عنوان’ بن جانے کا ڈر ہوتا ہے

اس لئے آپ

کبھی ملا کو کبھی  مدرسے کو

کبھی اقدار کو اور کبھی کسی انفرادی یا گروہی غلطی کو بنیاد بنا کر سب لپیٹنا چاہتے ہیں،

بس ایسا کرتے ہوئے دوسروں کو عنوان بنانے اور خود عنوان بننے سے بچنے کو یاد رکھا کریں

اور اگر واقعی مخلص ہیں تو پھر قدم آگے بڑھائیں اور طے کر لیں کہ

اپنے مذموم مقاصد کے لئے مذہب کا غلط استعمال کرنے والا بھی مجرم اور اپنا اصل چہرہ چھپا کر دہائیوں اور صدیوں پہلے رد ہوجانے والے اعتراضات کی بنیاد پر مذہب کو ہدف تنقید بنانے اور توہین آمیز مواد کا سہارا لینے والے بھی مجرم،

خود بے شک جیو،مگر دوسروں کی سانسیں چھین کر نہیں،

تاکہ کوئی کہیں سے انصاف نہ ملنے کی امید پر خود ہی منصف نہ بن جائے۔

پھر نصاب کا حصہ بننے کے لئے نہ تم عنوان بنو گے نہ کسی کو عنوان بننا پڑے گا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *