مشال قتل کیس رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی

مشال قتل کیس رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی

اسلام آباد: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کا مرتکب ہونے پر قتل کئے گئے طالبعلم مشال خان کے متعلق ازخود نوٹس کیس میں پولیس نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی و) مردان عالم خان شنواری نے جمع کروائی۔

مشال کے زخمی دوست عبداللہ کا بیان بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق واقعہ میں یونیورسٹی انتظامیہ ملوث تھی۔

رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی حیدرخان یونیورسٹی پہنچے تو مشال کے دوست عبداللہ پر تشدد جاری تھا جس پر انہوں نے عبداللہ کو بچایا۔

واقعہ کے روز انتظامیہ مشال کے خلاف توہین مذہب کی انکوائری کر رہی تھی۔ عبداللہ کے بیان کے رپورٹ میں شامل حصہ میں کہا گیا ہے کہ اسے بھی مشال کے خلاف بیان دینے کا کہا گیا تاہم اس نے انکار کردیا۔

مشال کے دوست عبداللہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مشال کا گھیراؤکرنے میں یونیورسٹی ملازمین پیش پیش تھے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ازخود نوٹس کیس میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق عبداللہ نے مشتعل ہجوم کے سامنے مشال کے گستاخ نہ ہونے کی گواہی دی۔

مزید کہا گیا ہے کہ چئیرمین شعبہ ابلاغ عامہ کا دفر بھی استعمال ہوا جب کہ واقعے کے وقت پولیس یونیورسٹی میں موجود تھی۔ ملزمان میں یونیورسٹی کے چھ ملازمین بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مشال قتل کیس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی کے گارڈن کیمپس میں مشتعل ہجوم نے مشال خان نامی طالبعلم کو گستاخی کا مرتکب ہونے کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ اس موقع پر سامنے آنے والی متضاد اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ مشال روس سے واپس آنے کے بعد دہریت اختیار کر چکا تھا اور برملا گستاخی کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔

دوسری جانب مشال ہی کی جانب سے گزشتہ برس دسمبر میں لکھا گیا فیس بک اسٹیٹس سامنے لایا گیا جس میں وہ اپنے نام سے ایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ کی اطلاع دیتا ہے۔

گزشتہ روز مشال کے ایک لیکچرر ضیاء اللہ ہمدرد کا بیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مشال کو اس کے کردار کی وجہ سے کامریڈ کہا کرتے تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ واقعہ کے وقت وہ بڑی مشکل سے بچتے بچاتے ایڈمن بلاک پہنچے اس موقع پر مشال نے انہیں دو موبائل فون میسیج بھی جس کا جواب انہوں نے اوکے لکھ کر دیا۔

مشال قتل کیس کے مرکزی ملزم وجاہت اللہ نے اپنے بیان میں جن افراد کو مشال قتل کے لئے اکسانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے ان میں مذکورہ لیکچرر بھی شامل ہے۔

 قبل ازیں مشال ہی کی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے عہدیدار کے اسٹیٹسز بھی سامنے لائے گئے جو اے این پی کے مرکزی قیادت کے قریب قرار دیا جاتا ہے۔ مذکورہ پیغامات میں مشال کو سخت برابھلا کہتے ہوئے اس کا قتل کرنے والوں کی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *