حرکت میں برکت کی افادیت اجاگر کرتی تحقیق

حرکت میں برکت کی افادیت اجاگر کرتی تحقیق

آئیووا: کہتے ہیں حرکت میں برکت ہے،لگی بندھی زندگی کے معمولات انسان کے لئے سنگین مسائل پیدا کرتے ہیں اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو روزانہ کچھ وقت اپنے لئے بھی مختص کرنا چایئے جس میں اپنی صحت کے حوالے سے اقدامات کرنے چایئے۔

پاکستان ٹرائب ورلڈ  ڈیسک کے مطابق  آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹیکساس میں واقع کواوپر انسٹی ٹیوٹ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے جس میں جاگنگ کی عادت اور موت کے درمیان تعلق تلاش کیا گیا ہے جو اس سے قبل کی گئی تحقیقات کی تصدیق کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  خواہ روزانہ آپ کتنا ہی چلیں یا کتنی ہی رفتار سے دوڑیں اس سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سائنسدانوں کی اسی ٹیم نے 55 ہزار بالغ افراد کا جائزہ لے کر انکشاف کیا تھا  روزانہ صرف 7 منٹ دوڑنے سے دل کے دورے کا خطرہ بڑی حد تک کم ہوسکتا ہے۔

  ایک اور سروے میں اگلے 15 برس تک شرکا کا جائزہ لیا جاتا رہا کہ مرنے والے 3 ہزار افراد میں ایک تہائی(33 فیصد)اموات ہارٹ اٹیک سے واقع ہوئی تھی۔

اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک پروفیسر ڈک چل لی نے بتایا کہ اس سروے میں ہم نے ایک گھنٹے، دو گھنٹے یا تین گھنٹے فی ہفتہ دوڑنے کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض شرکا نے اعتراف کیا کہ وہ فی ہفتے اوسط دو گھنٹے تک دوڑتے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق چہل قدمی اور سائیکل چلانے سے قبل از وقت موت کا خطرہ 12 فیصد تک ٹل جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دوڑنے اور جسمانی ورزش سے ہائی بلڈ پریشر کو ٹالنے اور جسمانی چربی گُھلانے میں مدد ملتی ہے۔  اس کے علاوہ ایئروبک ورزشیں بھی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ 50 سال کے ہیں اور ہفتے میں ایک سے دو گھنٹے دوڑتے ہیں تو اس سے زندگی میں اوسط تین سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *