“پاکستانی ہیں تو1978کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ لائیں”

“پاکستانی ہیں تو1978کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ لائیں”

اسلام آباد:وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ جن کے شناختی کارڈ بلاک ہوئے ہیں1978سے پہلے کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ لے آئیں ہم آپ کو پاکستانی مان لیں گے،کلبھوشن کے معاملے پر بھارت کو رسائی نہیں دی کیونکہ بھارت نے کبھی کسی کو سفارت خانے تک رسائی نہیں دی،لوگوں کو اٹھانا حکومت کی پالیسی نہیں،اگلے ماہ مارک زکربرگ پاکستان آئیں گے اور توہین آمیز مواد سے متعلق مزید کام کیا جائے گا،ڈان لیکس کا معاملہ بھی تقریباً حل ہو چکا ہے دو سے تین روز میں معاملہ میڈیا کے سامنے آ جائے گا،ایان علی پرویز مشرف اور ڈاکٹر عاصم کو عدالت نے ملک سے باہر بھیجا ہے،حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں،مشعال خان معاملے پر کسی کو مذہب پر دادگیری کرنے کی اجازت نہیں۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا بھارت کسی معاملے پر بھی سفارت خانے تک رسائی نہیں دیتا جبکہ کلبھوشن یادیو تو ایک جاسوس تھا اس تک رسائی دی ہی نہیں جا سکتی تھی اس لئے نہیں دی گئی۔

مشعال خان معاملے پر جوڈیشل کارروائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ غلط پیغام گیا ہے،ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں،نہ ہی مذہب ہر داد گیری چلنے دینے کی اجازت ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ ملک کے حالات سب کے سامنے تھے اور گزشتہ دس بارہ سالوں سے بغیر کسی اجازت کے این جی اوز اپنی کارروائیوں میں ملوث تھیں،کل130این جی اوز کام کر رہے تھیں مگر اجازت صرف19کو تھی،ان کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے ان کو ویزہ کس نے دیا اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں اب62این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور جو ابھی رہتے ہیں وہ اگر ہماری کنڈیشنز منظور کر لیتے ہیں تو کام کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

چوہدری نثار نے بتایا پاکستانی پاسپورٹ کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئیں ہیں اب پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراء کے قانون کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا،ہم نے اوریجن کارڈ کا نام اب عارضی رہائشی کارڈ(ٹمپریری ریزیڈینس کارڈ)نام رکھ دیا گیا ہے جو کہ صرف پانچ سال کے لیے جاری ہو گا،باہر ملک کی وہ خاتون جو پاکستان میں شادی کرے گی اسے ایک سال کے لیے پاسپورٹ ملے گا بغیر مناسب اور مکمل دستاویزات کے اب کوئی پاکستان میں داخل نہیں ہو سکے گا نہ ہی لینڈنگ کارڈ اب ہر کسی کو جاری کیا جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ ترسیلات زر کے معاملے میں گزشتہ حکومتیں اور ادارے ملے ہوئے تھے103ارب کی ترسیلات زر کا کوئی ثبوت نہیں،جس کا عملی ثبوت خانانی اینڈ کالیا کیس،ایف آئی اے،جس میں اس وقت کی حکومت مکمل ملی بھگت شامل تھی،جس میں مقامی بینک بھی شامل تھے اور جب میں نے اس بارے میں سوال کیا تو ایف آئی اے نے مجھے بتایا کہ یہ کیس حل ہو چکا ہے اس بارے میں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ ہمارے وہ مہمان جو پاکستان میں شکار کھیلنے کے لیے آتے ہیں ان کے ساتھ ٹیم میں کچھ ایسے ممبران بھی ہوتے ہیں جن کے پاس مکمل ویزہ دستاویزات نہیں ہوتے ہم نے ان کے لئے الگ ڈیسک بنا دئیے ہیں تاکہ وہ بھی اب قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوں۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ شانختی کارڈ بلاک ہونے کا معاملہ سامنےآیا ہوا ہے وہ کسی پنجابی،پشتون یا سندھی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کا قومی مسئلہ ہے کیونکہ ماضی می چند ہزار کے عوض ملک کی نیشنلٹی بیچی گئی۔جس کی وجہ سے ایک تو پاکستان نیشنلٹی دینے کا مجرم بنا دوسرا دہشت گردوں کو سہولیات دینے کا سبب بن گیا،اس سب کو ٹھیک کرنے کے لئے ہم نے33ہزار پاسپورٹ کینسل کر دئیے ہیں جن میں سے سب سے بڑی تعداد پشتون بولنے والوں کی ہے جو کہ درحیقت افغانی تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جب ہم میڈیا کے تعاون سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو تصدیق کا عمل شروع کیا تو تین ہزار چھ سو چالیس ایسے لوگ تھے جنھوں نے خود اپنے شناختی کارڈز واپس کئے کہ یہ ہمیں ناجائز جاری ہوئے تھے انھیں واپس لے لیں اور ہمارے خلاف کارروائی نہ کریں ان میں انڈیا،بنگلہ دیش،انڈونیشیا اور بڑی تعداد میں افغانستان کے لوگ شامل تھے،صرف یہی نہیں بلکہ پچیس ہزار پاسپورٹ بھی کینسل کئے گئے،ملک کے ہر حصے میں پشتون موجود ہیں ایک لاکھ پچیس ہزار غیر پشتونوں کے کارڈ بلاک کئے گئے ہیں اس لئے ملک میں بلاوجہ کی تفریق پیدا نہ کی جائے،اصل سیاست اور جمہوریت یہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے لئے نفریتیں نہ پھیلائی جائیں،پولیس نے کسی پشتون کو ہاتھ نہیں لگایا مگر پھر بھی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پشتونوں کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اب ہم نے اس سلسلے میں نئی تجاویز کا اعلان کیا ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہو گا،اگر کوئی بھی ان شرائط پر عمل کر لے تو اہم اسے پاکستانی شہری مان لیں گے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ وہ تجاویز جن پر سوموار سے عمل درآمد شروع ہو گا،وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

الف:سال1978سے پہلے کا کوئی بھی اسلحے کا لائسنس لے آئیں۔

ب:تعلیمی اسناد لے آئیں۔

ج:سال1978سے پہلے کا قومی شناختی کارڈ،پاسپورت لے آئیں اسے پاکستانی تسلیم کر لیا جائے گا۔

د:کسی بھی قسم کی ایسی دستاویز جو کہ سرکاری دستاویزات کا حصہ بن سکتی ہے اور جس سے کسی بھی شخص کی پاکستانی شہریت واضح ہوتی ہے وہ لے آئیں اسے پاکستانی مان لیں گے۔

سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مارک زکربرگ اگلے مہینے پاکستان آ رہے ہیں،80سے زائد غیر مناسب پوسٹس ہٹائی جا چکی ہیں،امریکا سے بھی اس معاملے میں تعاون کی بات چیت چل رہی ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوسرے ملک میں بیٹھ کر اس معاملے پر کام کیا جا رہا ہے اس لئے وقت لگ رہا ہے مگر امید ہے کہ جلد ہی مسئلہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔

ڈان لیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگلے دو تین روز میں اس معاملے پر تمام تفصیل اور رپورٹ وزیراعظم اور وزارت داخلہ کو پیش کر دی جائے گی،اتفاق رائے ہو چکا ہے،ساری تفصیل مکمل ہو چکی ہے دو سے تین روز میں سب سامنے آ جائے گا۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ کرنل(ر)حبیب ظاہر کے معاملے پر نیپال سے بھی مشاورت کا کام جاری ہے وہ پاکستان کے ساتھ بہت تعاون کر رہا ہے،اصل صورتحال بالکل ویسے ہی ہے جیسے میڈیا پر بتائی جا رہی ہے،ایک تیسرے ملک کی سرزمین بھی اس کام کے لئے استعمال کی گئی ہے اس لئے زرا وقت لگ رہا ہے مگر جلد ہی ساری صورتحال واضح ہو جائے گی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے تین دوستوں کے اغواء پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک کام ہے ہم پچھلے تین سالوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ اس قسم کا کوئی کام نہ ہو مگر پھر بھی پہلے بلاگرز اور اب یہ تین اشخاص اٹھا لئے گئے ہیں،یہ سب بہت زیادہ قابل مذمت ہے،ہم نے ڈی جی آئی ایس آئی اور آئی بی دونوں کو اس معاملے پر ہدایات دے رکھی ہیں،اس معاملے پر ہمارے پاس جو کچھ معلومات ہیں وہ ہم کورٹ کو دیں گے کیونکہ تین لوگوں کو اٹھائے جانا خلاف قانون ہے تاہم صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ ہے مگر وفاقی حکومت وفاق سے متعلق شخصیت پر صوبائی حکومت سے تعاون کے لئے تیار ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایان علی،پرویز مشرف اور ڈاکٹر عاصم کو ملک سے باہر لے جانے کا معاملہ عدالت کے پاس تھا اور عدالت نے ہی فیصلہ دیا ہے اس میں حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں اس لئے ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *