برطانوی طالبعلم امتحان میں نقل میں سب سے آگے

برطانوی طالبعلم  امتحان میں نقل میں سب سے آگے

لندن:  نقل صرف ایشیائی ممالک کے طالبعلموں ہی کا پسندیدہ شغل نہیں ہے بلکہ یہ خود کو پہلی دنیا کہلانے والے برطانیہ کے طالبعلموں کا بھی سہارا ہے مگرفرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اس بات کا شور بہت ہوتا ہے جبکہ وہاں کا میڈیا اس بات  کو سر پر نہیں آٹھاتا۔

ایک سروے کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی لیول کے طالبعلم نقل کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں جن میں اسمارٹ گھڑیاں،جاسوسی کیمرے اور پوشیدہ ائیر پیسسز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2012 میں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں ان حساس آلات کے ذریعے نقل کرنے کے 216 کیسز سامنے آئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد صرف ان کیسز کی ہے جو سامنے آئے ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ریسرچ کے مطابق ایسے آلات باآسانی خریدے جا سکتے ہیں اور نہ نظر آنے والے ائیر پیسز کے ذریعے کوئی شخص بھی طالبعلم کو سوالات کے جوابات بتا سکتا ہے۔

کوالٹی ایشورنس ایجنسی فار ہائر ایجوکیشن کے مطابق یہ تمام آلات یقینی طور پر نقل کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ 2011 میں 11 فیصد طالبعلم ان آلات کے ذریعے نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے ۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *