طاہراشرفی کو امریکی و جرمن فنڈنگ کاہوشرباانکشاف

طاہراشرفی کو امریکی و جرمن فنڈنگ کاہوشرباانکشاف

اسلام آباد : مبینہ شراب نوشی اور اپنے متنازعہ کردار کی وجہ سے متنازعہ بننے والے پاکستان علماء کونسل کے سابق چیئرمین طاہر اشرفی نے غیرملکی اداروں سے کروڑوں روپے وصول کئے۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان علماء کونسل کی جانب سے عہدے سے برطرف کئے جانے والے طاہراشرفی نے ایک امریکی این جی اوز سے 90 ہزار ڈالر اور جرمن سفارت خانے سے 43 لاکھ روپے وصول کیے جس کی دستاویزات منظرعام پر آگئیں۔

اپنی نوعیت کے انتہائی حیرت انگیز معاملے کے متعلق بات کرتے ہوئے طاہراشرفی نے اس کی تردید کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین طاہر اشرفی نے دہشت گردی کے رحجانات کے خاتمے کی مد میں امریکی این جی او آئی سی آر ڈی سے 90 ہزار ڈالر لیے۔ وصول کردہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریبا 94 لاکھ 22 ہزار روپے بنتی ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ طاہراشرفی نے سوشل میڈیا اور دینی مدارس میں دہشت گردی کے رحجانات کی مانیٹرنگ کے لیے جرمن سفارت خانے سے بھی رقم وصول کی، جسے لاہور کے علاقے کیولری گراؤنڈ کے نجی بینک اکاؤنٹ میں ان کے لیے 43 لاکھ 44 ہزار روپے کے فنڈ کی صورت جمع کروایا گیا۔

غیرملکی فنڈنگ کے معاملے پر پاکستان علماء کونسل دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے،نئے دھڑے کے چئیرمین مولانا زاہد محمود قاسمی ہیں جنہوں نے غیر ملکی فنڈز کی تحقیقات کی اپیل بھی کر رکھی ہے۔

غیر ملکی اداروں سے فنڈ لینے کے معاملات طاہر اشرفی نےعلم و عمل فاونڈیشن کے نام پر کئے ہیں۔

امریکا اور جرمنی سے فنڈ وصول کرنے کے حوالے سے طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ امریکی این جی او اور جرمن ادارے فنڈنگ کی تردید کرچکے ہیں،اس کے علاوہ جرمن سفیر نے بھی کئی مرتبہ اس بات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ میں نے پاکستان اوراسلام دشمنی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کےخلاف کبھی کوئی بات کی۔

نجی نیوز چینل اے آر وائی سے گفتگو میں صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ طاہراشرفی کا رقم وصول کرنے کا معاملہ کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں،پاکستان کے اندر ایک مخصوص طبقہ فکر پاکستان کی نظریاتی حدود کو متاثر کرنے کے لیے ہمیشہ سے مختلف ممالک سے فنڈلیتا رہا ہے،طاہر اشرفی پر پہلے ہی دو تین بار شراب پینے کے الزامات عائد ہوچکے ہیں،پہلے پولیس نے پکڑا پھر ایک ٹی وی پروگرام میں وہ شراب پی کر آگئے تھے،وہ پروگرام سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا۔

پاکستانی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ایسے چینل ایسے افراد کو پروموٹ کرتے ہیں جو علما کا لبادہ اوڑھ پر اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

حامد رضا نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق طاہر اشرفی اس وقت پنجاب حکومت کے علما کوآرڈنیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، پنجاب حکومت اور ن لیگ کی ایسے علما سے رفاقتیں ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *