کےالیکٹرک کیخلاف دھرنا،جماعت اسلامی کی قیادت گرفتار

کےالیکٹرک کیخلاف دھرنا،جماعت اسلامی کی قیادت گرفتار

کراچی: کراچی پولیس نے کے الیکٹرک کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی،اووربلنگ اور مسلسل بجلی کی فراہمی میں ناکامی پر پرامن احتجاج کے لئے شارع فیصل پر دھرنا دینے والی جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ انجنئیر حافظ نعیم الرحمن،امیر ضلع شرقی یونس بارائی،جماعت اسلامی کراچی الیکٹرانک میڈیا انچارج سلمان شیخ سمیت متعدد قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنے کا اعلان کررکھا تھا تاہم پولیس نے نہ صرف سیاسی جماعت کے احتجاجی کیمپ اکھاڑ دئیے بلکہ کئی کارکنوں کی گرفتاری کی وجہ سے پولیس اور کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی کےکارکنان پولیس کاگھیراتوڑ کر ادارہ نورحق سے باہر نکل آئے جہاں پولیس نے حافظ نعیم کو موبائل میں بیٹھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس اور کارکنوں میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ تاہم بعد میں حافظ نعیم کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی کے کئی کارکنوں نے بھی گرفتاریاں دے دیں۔

پولیس نے موقف اختیار کیا کہ جماعت اسلامی شارع فیصل جیسی مصروف سڑک کو بند کرنا چاہ رہی تھی،تاہم جماعت اسلامی ترجمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ شارع فیصل نہیں عوامی مسائل کی آواز بلند کرنے کا اچھا نہ لگنا ہے۔

پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد تھانے منتقل کئے جانے کے بعد جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ نے کارکنوں کے ہمراہ تھانے میں ہی دھرنا دے دیا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا کہنا ہے کہ بجلی کے زائد بلوں،عدالتی احکامات کے برخلاف اضافی رقم صارفین کو واپس نہ کرنے اور مسلسل بجلی کی عدم فراہمی جیسے عوامی مسائل پر پرامن احتجاج کرنے والے جماعت اسلامی کے کارکنان اور کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *