مسئلہ شارع فیصل نہیں کےالیکٹرک ہے،حافظ نعیم

مسئلہ شارع فیصل نہیں کےالیکٹرک ہے،حافظ نعیم

کراچی:پولیس کی جانب سے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق کو گھیرے میں لینے اورپارٹی کارکن گرفتار کرنے پر انجنئیرحافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ شارع فیصل کا نہیں کےالیکٹرک کا ہے،عوامی نوعیت کے مسئلہ کو ہر کرنے کے لئے ہر در کھٹکھٹایا بالآخر عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کرنا پڑا،سیاسی جماعتیں مسئلےکواجاگرکرنےکیلیے ہی جگہ کاانتخاب کرتی ہیں۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق کراچی میں شارع فیصل کے مقام پر جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی،زائد بلنگ،عوام کو ریلیف نہ دینے اور بلاتعطل بجلی فراہمی میں ناکامی پر احتجاج کرتے ہوئے اپنا احتجاجی کیمپ لگایا جسے کراچی پولیس نے اکھاڑ دیا اور ڈاکٹر فرخ سمیت تین کارکن بھی گرفتار کر لیے۔

جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے جمعہ کو شارع فیصل پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کر رکھا گیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو شارع فیصل پر پہنچنے سے روکنے کیلئے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر کا گھیرائو کرلیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

پولیس کا گھیرا توڑ کر باہر نکلنے والے جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنےکی جگہ پہنچنےکی ہرممکن کوشش کریں گے،احتجاج توکریں گے،جہاں روکا گیا وہاں دھرنا دے دیں گے۔

کے الیکٹرک کے رویے اور اسے بچانے کے لئےپولیس و نیپرا کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کا حصہ ہے،ہمارے کارکنان گلی محلوں میں عام آدمی کی طرح رہتے اور انہی کے مسائل فیس کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں کراچی کو درپیش بجلی کے بڑے مسئلہ پر جماعت اسلامی عدالتوں میں گئی۔ کے الیکٹرک اور نیپرا کی عوامی سماعتوں میں شریک ہوئی،عوام کو آگاہ کرنے کے لئے متعدد بار میڈیا پر مہمات چلائیں،سب کچھ کے باوجود جب کے الیکٹرک اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو مجبورا سڑکوں پر آنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک پرامن جماعت ہیں جو ایک خالص عوامی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہے اس مقصد کے لئے دھرنے کا طے شدہ پروگرام ضرور ہوگا۔

کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کے سبب پربات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا پرامن احتجاج کراچی میں بجلی بحران اور اس کے ذمہ دار ادارے کے خلاف ہے،مگر آج کے اقدامات سے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک مل کر عوام کو پیسنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انتظامیہ نے کہا کہ ٹریفک میں خلل نہیں آنا چاہیئے ہم نے کہا ٹھیک،مگر ہمیں جمہوری عمل سے روکا جا رہا ہے ادارہ نور حق میں دھرنا نہیں تھا،جماعت اسلامی کراچی کے دفتر کو کیوں گھیراگیا اور اسےکیوں بند کیا گیا؟

جماعت اسلامی کراچی سے وابستہ اعلی سطحی ذریعے نے پاکستان ٹرائب کو بتایا کہ کراچی کے عوام کے دیرینہ مسئلے کو حل ہونے سے روکنے کے لئے پوری مشینری فعال ہے۔ احتجاجی پروگرام کے لئے اخبارات میں اشتہار دینے کی کوشش کی گئی تو جواب ملا کے کے الیکٹرک ہمارا کلائنٹ ہے اس کے خلاف اشتہار نہیں چھاپ سکتے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *