کےالیکٹرک احتجاج،پولیس نےجماعت اسلامی کادفترگھیرلیا

کےالیکٹرک احتجاج،پولیس نےجماعت اسلامی کادفترگھیرلیا

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے ذمہ دار نجی ادارے کے الیکٹرک کی جانب سے عدالتی احکامات کے خلاف ورزی پر احتجاج کا اعلان کرنے والی جماعت اسلامی کا دفتر پولیس نے گھیرلیا۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے جمعہ کو شاہراہ فیصل پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ اس نے کراچی کے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلی عدلیہ میں کے الیکٹر کے خلاف مقدمہ لڑا،جس میں عدالت نے واضح حکم دیا کہ بجلی بلوں میں وصول کی جانے والی اضافی رقم کا مسئلہ حل کیا جائے۔ تاہم نجی ادارہ کے الیکٹرک عدالتی احکامات کا کھلم کھلا انکار کرتے ہوئے کراچی کے مکینوں کو یہ حق مہیا نہیں کر رہا۔

گفتگو اور سمجھانے کے تمام تر انداز اختیار کر لینے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے پر جمعے کو پرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تاہم پولیس نے احتجاج کے وقت سے پہلے قیادت کو نظربند رکھنے کے لئے مرکزی دفتر کا گھیرائو کر لیا۔

جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ صبح سے ادارہ نور حق میں موجود جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ انجنئر نعیم الرحمن بدستور دفتر میں ہی موجود ہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت جیسے ہی احتجاج کے مقام کیلئے روانہ ہونے لگی تو دفتر کاگھیرائو کرتے ہوئے پولیس نے آمدورفت کے راستے بند کر دیے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور نیپرا کی جانب سے اسے نہ روکنے کے خلاف اعلان کردہ احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے بجائے کراچی پولیس شہر کے باسیوں کا ساتھ دے۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے شاہراہ فیصل نرسری پر اعلان کردہ احتجاج کو روکنے کے لئے ڈاکٹر فرخ سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *