پاکستان اسٹیل،خبراورپس خبر – شاہد عباسی

پاکستان اسٹیل،خبراورپس خبر – شاہد عباسی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے منگل کو ہمارے نمائندہ نے خبر دی کہ ملکی ترقی کو اپنی پارٹی کی حکومت کی خوبی بتانے والے اسحاق ڈارنے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل کے ملازمین کے لئے ایک ماہ کی تنخواہ کی منظوری دے دی۔

قومی خزانے پر36 کروڑ روپے کے ’بھاری بوجھ‘ کی صورت یہ رقم ساری نہ سہی،کٹ کٹا کر اپریل کے پہلے ہفتے میں ملازمین و افسران کو نیٹ تنخواہ کی شکل میں مل ہی جائے گی،البتہ الائونسز اور دیگر مدات میں رہ جانے والا کروڑوں کا فرق تاحال باقی رہے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ایک ماہ کی تنخواہ کا تخمینہ 96 کروڑ روپےہے البتہ الائونسز،گریجویٹی وغیرہ کی کٹوتی کے بعد بچ جانے والی تنخواہ کی رقم 36 کروڑ روپے بنتی ہے۔

یہ تووہ ہے جو خبر ہے البتہ اس اہم قومی اثاثے کے معاملے میں اصل بات پس خبر ہے،جو کچھ یوں ہے کہ :

یہ تنخواہ دسمبر 2016 کی ہے،جنوری تا مارچ کے تین ماہ اور اب اپریل کا فی الحال کچھ علم نہیں۔ اس ایک ماہ کی تنخواہ کے لئے ملازمین و افسران کو 4 ماہ انتظار کرنا پڑا۔

14 ہزار افسران و ملازمین اور ان کے خاندانوں کو یہ فارمولہ کون سمجھائے گا کہ چار ماہ بعد ملنے والی ایک ماہ کی ادھوری تنخواہ میں بجٹنگ کیسے ہوتی ہے؟

ملک میں فولاد بنانے کے واحد کارخانے اور اہم قومی اثاثے کی پیداوار کئی برسوں سے کیوں بند رکھی گئی ہے؟

موجودہ سیکرٹری پیداوار خضر حیات گوندل خود اس ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں،وہ کیوں کوئی حل تجویز نہیں کر سکتے؟ ن لیگ کے ایک موجودہ وزیر بھی اس کے سربراہ رہ چکے جن کے دور میں ادارہ سالانہ اربوں روپے کے منافع میں تھا،پھر بھی کوئی حل نہیں ہوتا۔

شریف خاندان کی ملوں کو پاکستان اسٹیل کی بدحالی کی وجہ سیاسی طور پر تو بیان کیا جاتا ہے لیکن اس میں حقیقت اس لئے نہیں کہ وہ ری رولنگ ملز ہیں جب کہ پاکستان اسٹیل ملز میں جو کچھ بنایا جاتا ہے وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ تاہم یہ سوال بنتا ہے کہ منافع بخش اداروں کے مالک اور چلانے کی شہرت رکھنے والے صنعت کار حکمراں اہم اثاثے سے پہلو تہی کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستان اسٹیل جون 2015 سے بند ہے،تیس جون 2016 کی مالی رپورٹ کے مطابق ادارہ 163 ارب روپے کے خسارے کا شکار ہے۔ نقصانات و واجبات کو ایک ساتھ ملا لیں تو کل رقم 400 ارب کے خسارے کی صورت سامنے آتی ہے۔ اگر چہ واجبات و خسارے کو اکٹھا کرنا مالیات کے مسلمہ عالمی اصولوں کے بھی خلاف ہے تاہم بات سمجھنے کو یوں ہی مان لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اپنی نوعیت کے واحد قومی ادارے کے مسائل حل کرنے اور اس قیمتی اثاثے کو بچانے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کرنے میں موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ ماضی کی پی پی پی حکومت بھی ملوث ہے۔ جس نے اپنے دور میں مسائل حل کرنے کے بجائے 40 ارب روپے کے قرضے انتہائی بھاری شرح سود پر دیے اور ادارہ چلانے کے نام پر اسے مزید ڈبویا۔

چلتے چلتے اتنا یاد دہانی کے لئے مزید پوچھ لیا جائے کہ ٹیکنالوجی کا موجودہ دور ہو یا کچھ عرصہ قبل کا وقت،دنیا بھر میں شدید تر مالی بحران کے دور میں بھی اسٹیل کی صنعت منافع بخش ہی رہی،ایسے میں ہمارے ہاں کا اکلوتا ادارہ کیوں غیرفعال کررکھا گیا ہے؟ کیا یہ محض غفلت و نااہلی ہے یا اس کے ڈانڈے کہیں اور بھی جا ملتے ہیں۔

اسٹیل سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ چند اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ چلتا رہے تو پاکستان مالی خودکفالت کی یقینی منزل پا سکتا ہے۔ پھر آمدن جمع کرنے کے شوقین حکمراں اس سے کیوں پہلو تہی کر رہے ہیں؟

حکومت کی جانب سے ادارے کو بحال کرنے کی کوششوں اور اس کے پس پردہ نیتوں کا اندازہ کرنے کے لئے یہ بھی جان لیا جائے کہ کئی مہینے تاخیر کے بعد ایک ماہ کی جاری کی جانے والی تنخواہ کی رقم قرض کی صورت دی جاتی ہے۔ دوسری جانب آڈٹ کو دو سال سے روک رکھا گیا ہے مبادا کہیں آڈٹ میں دیوالیہ قرار دے دئے جانے کے بعد قرض ہی نہ مل سکے تو کیا کریں گے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اسٹیل کی مزدور یونین پاسلو اور دیگر کی جانب سے ہونے والے احتجاج نے حکام کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا ہے لیکن حقیقت دیکھیں تو معاملہ بے حسی کی انتہا ہے۔ جو افراد پر طاری ہو تو وہ نااہل ہو جاتے ہیں اور قوموں یا قومی قیادتوں پر طاری ہو تو انجام ڈرائونا ہی نہیں بھیانک بھی ہوجاتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *