شاہ محمود قریشی پی پی پی میں واپسی کوتیار،ذرائع

شاہ محمود قریشی پی پی پی میں واپسی کوتیار،ذرائع

اسلام آباد: پاکستان کے سیاسی موسموں کے اتار چڑھائو پر نظر رکھنے والے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی جلد ہی اپنی  پرانی جماعت میں واپس چلے جائیں گے۔

پنجاب یونیورسٹی،ایچی سن کالج،فورمین کرسچن کالج اور یونیورسٹی آف کیمبرج سے تعلیمی کیرئیر مکمل کرنے والے شاہ محمودقریشی خاندانی طور پر گدی نشین بھی ہیں،سیاست میں مسلسل فعال حصہ لیتے رہنے کے باوجود اپنے حلقہ مریدین کی رہنمائی بھی جاری رکھتے ہیں۔ 2002 کے بعد سے مسلسل رکن قومی اسمبلی رہنے والے پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین کے حلقہ ارادت کو ان کا بڑا ووٹ بینک تسلیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اطلاعات کے مطابق سیاسی راہداریوں کے موسم سے آگاہ تجزیہ کاروں کا دعوی ہے کہ 60 سالہ شاہ محمود قریشی جلد ہی پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے اور واپس اپنی پرانی جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔

شاہ محمودقریشی کے متعلق پیشگوئی کرنے والوں کا ماننا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری پنجاب میں اپنی جماعت کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سابقہ جیالوں کی نئے سرے سے پارٹی میں شمولیت بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

پیپلزپارٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ آصف علی زرداری ان دنوں اس کوشش میں ہیں کہ ماضی میں ان کی جماعت کو چھوڑ کر چلے جانے والے جیالے واپس آ جائیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں پنجاب سے فیصل صالح حیات سمیت کراچی سے نبیل گبول کی پی پی پی میں واپسی کو اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دینے والے حلقے شاہ محمودقریشی کو بھی واپس آنے والوں کی فہرست کا بڑا نام قرار دیتے ہیں۔

مذکورہ حلقے سندھ میں کرپشن کے سنگین معاملات کو پی پی پی کے راستے میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں تاہم وفاق میں حکومت بنانے کے لئے عددی برتری حاصل کرنے کے اکلوتے مقام پنجاب پر آصف زرداری کی خصوصی توجہ کو متبادل حکمت عملی بھی تسلیم کرتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزیرخارجہ رہنے والے شاہ محمودقریشی ماضی میں پی ٹی آئی چھوڑنے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی تردید کر چکے ہیں تاہم پنجاب میں پی ٹی آئی کے مختلف دھڑوں کی موجودگی کو تجزیہ کار پارٹی سے ان کی دلچسپی کم ہونے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے حوالے سے سیاسی پنڈتوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اور علیم ڈار کی موجودگی میں شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں وہ مقام نہیں رکھتے جو ان کا حق ہے اس لیے ممکن ہے کہ پی پی پی کی جانب سے سافٹ کارنر ملنے پر وہ عمران خان کو بائے کہہ دیں۔

خاندانی گدی نشینی کے معاملہ پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے بعد شاہ محمودقریشی کے بھائی مرید حسین قریشی سے منسوب یہ خبریں بھی ماضی میں سامنے آچکی ہیں کہ وہ مخصوص حلقوں کی ایما پر تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے۔

پاکستانی سیاست میں چند اچھے گفتگو کرنے والوں میں سے ایک کا درجہ رکھنے والے شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل کے متعلق خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ عام انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی نئی سیاسی صف بندیوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں پنجاب میں ہونے والے بیشتر ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم سابق صدر کی پنجاب میں خصوصی دلچسپی کو صرف نظر کرنے کے بجائے تجزیہ کار اسے اقتدار کی غلام گردشوں کے راستے پر سفر ہی مانتے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *