بابری مسجد گرانے سے کوئی نہیں روک سکا تو مندر بنانے سے کون روکے گا،وزیر اعلیٰ اترپردیش

بابری مسجد گرانے سے کوئی نہیں روک سکا تو مندر بنانے سے کون روکے گا،وزیر اعلیٰ اترپردیش

ممبئی:بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما اور اتر پردیش کے نئے نامزد وزیر  اعلیٰ اپنے مسلمان مخالف سخت اور متنازعہ بیانات کی وجہ سےشہرت رکھتے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق یو پی کے نامزد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ماضی میں مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں کا حصہ بن چکے ہیں،آئیے ان کے کچھ سخت بیانات پر نظر ڈالتے ہیں۔

جون 2106 میں مندر کی تعمیر کے بارے میں بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ایودھیا میں متنازع ڈھانچہ (بابری مسجد) کو گرانے سے کوئی نہیں روک سکا تو مندر بنانے سے کون روکے گا۔

اکتوبر 2106 میں ان کا ایک اور بیان خبروں کا حصہ بنا تھا،ان کا کہنا تھا کہ مورتی وسرجن (دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو پانی میں دفنانا) سے ہونے والی آلودگی تو دکھتی ہے لیکن عید اور بقرہ عید کے دن بنارس میں ہزاروں مویشیوں کے کاٹنے سے بہنے والا خون براہ راست گنگا جی میں بہتا ہے، کیا وہ آلودگی نہیں تھی؟

اکتوبر2015 میں دلی سے متصل دادری میں گائے کی قربانی کرنے کے شبہے میں ہندوں کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے محمد اخلاق کے قتل پر رد عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یوپی کابینہ کے وزیر اعظم خان نے جس طرح اقوام متحدہ جانے کی بات کہی ہے، انھیں فوری طور پر برخاست کیا جانا چاہیے۔ آج ہی میں نے پڑھا کہ اخلاق پاکستان گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی سرگرمیاں بدل گئی تھیں۔ کیا حکومت نے یہ جاننے کی کبھی کوشش کی کہ یہ شخص پاکستان کیوں گیا تھا؟ آج اس کی اتنی عزت افزائی ہو رہی ہے۔

جون 2105 میں ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو یوگا کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں انڈیا چھوڑ دینا چاہیے۔ جو لوگ سوریہ نمسکار کو نہیں مانتے انہیں سمندر میں ڈوب جانا چاہیے۔

اگست 2105 میں بھارت میں مسلمانوں کی آبادی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھنا ایک خطرناک رجحان ہے، یہ ایک تشویش ناک بات ہے، مرکزی حکومت کو کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

فروری 2015 میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اجازت ملے تو میں ملک کی تمام مساجد کے اندر ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھوا دوں۔ جیسے ارياورت نے آریہ بنائے ویسے ہی ہندوستان میں ہم ہندو بنا دیں گے۔ پوری دنیا میں بھگوا (ہندو) پرچم لہرا دیں گے۔ مکہ میں غیر مسلم نہیں جا سکتا ہے، ویٹیکن میں غیر عیسائی نہیں جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔

اگست 2014 میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر وہ ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں تو ہم 100 مسلم لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروائیں گے۔ بعد میں یوگی نے ویڈیو کے بارے میں کہا کہ میں اس معاملے پر کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا۔

یاد رہے سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو اترپردیش کے نئے اور 21ویں وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھایا تھا وہ وہ پانچ بار رکن پارلیمان رہ چکے ہیں اور اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *