عاصمہ شیرازی بے نقاب ہوتی ہے – اقصی شاہد

عاصمہ شیرازی بے نقاب ہوتی ہے – اقصی شاہد

انسان کتنا ہی گر کیوں نہ جائے،اپنی بنیاد سے چمٹا رہے تو توقع ہوتی ہے کہ وہ کسی نا کسی وقت سنبھل جائے گا یا سنبھال لیا جائے گا،لیکن اگرکوئی اپنے اصل تعلق یا اس کی علامتوں کو ہی باعث شرمندگی سمجھنے لگے تو وہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔

کچھ ایسا ہی معاملہ منگل کو بظاہر کچھ اور نظر آنے والی عاصمہ شیرازی کے ساتھ بھی ہوا۔ موصوفہ لفظوں سے کھیلتے ہوئے شاید بھول گئیں کہ عمل کا ردعمل بھی ہوا کرتا ہے۔ فعل کا نتیجہ بھی ہوتا ہے اور دلیل کی جوابی دلیل بھی ہوتی ہے۔

مجھے بطور فرد اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ اسکارف چہرے کے فالتو بال چھپانے کو لیتی ہیں یا واقعی اسے ایک فریضہ سمجھ کر اوڑھتی ہیں۔ یہ بات بھی ان کا اپنا فعل ہے کہ وہ رنگ و نسل اور فرقے کی محبت اختیار کرتی ہیں یا خالق کائنات اور وجہ تخلیق کائنات کی پیروی کو اصل سرمایہ سمجھتی ہیں۔

گزارش صرف اتنی سی ہے کہ اگر آپ ایک ہی پروگرام میں وزیراعظم کو ہولی منانے پر ستائش کر سکتی ہیں،اس عمل کے لئے برداشت پیدا کرنے کا خوبصورت جواز پیدا کرسکتی ہیں تو خدارا کسی انسان کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقی تعلیمات کو ہی مدنظر رکھ کراس عمل پر قدغن نہ لگائیں جو ایک اچھائی کا پہلا قدم ہے۔

ایک لمحے کو دینی پہلو سے ہٹ کر خالصتا عقلی یا منطقی دلیل کو ہی دیکھیں تو ایک فیصد سے بھی کم اقلیت کے تہوار کا حصہ بننے پر وزیراعظم کو اچھا کہنے والی زبان 97 فیصد مسلم اکثریت کے لئے مقدس فریضہ کا درجہ رکھنے والے پردے و حجاب کے متعلق اقدام پرکسی کو کیسے مطعون کر سکتی ہے؟

پنجاب حکومت نے صوبے کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے لئے رعایتی نمبر دینے کے معاملے کو ایجنڈے میں کیا شامل کیا۔ آصفہ بھٹو سمیت اسلام کو اپنے لئے چھوت کا مرض سمجھنے والا  ہر ذہنی مریض فعال ہو گیا۔ ٹوٹر بریگیڈ نے بے سروپا دلیلیں دے کر نمک حلالی شروع کی تو بھلا وہ کیسے پیچھے رہیں جو اپنے وجود پر ہی شرمندہ رہتے ہیں۔ آپ نے بھی اس بہتی گنگا میں پتہ نہیں کیا سوچ کر ہاتھ دھو ڈالے۔

آپ پروگرام بیچنے کے لئے بیشک اپنی مرضی کا ڈھونگ اختیار کریں لیکن خدارا ایک متفق علیہ معاملے کو متنازعہ نہ بنائیں۔ آپ اپنی ریٹنگ کے لئے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسے بیچیں لیکن ذرا دوسروں کے قابل احترام جذبات کا خیال بھی کر لیں۔ اگر نبی کی بیٹیوں میں سے کوئی کسی بھی وجہ سے حجاب سے دور ہے،پردہ کی اہمیت سے ناواقف ہے تو اس کے اس ذاتی نوعیت کے غلط کام کو سب پر تھوپنے والوں میں اپنا نام نہ لکھوائیں۔ یہ بھی نہ کر سکیں تو اتنا ہی سوچ لیں کہ کل کوئی لفظوں کے نشتر لے کر اگر آپ کے سر سے ردا اتارنا چاہے تو آپ پر کیا گزرے گی؟

کمزور سے کمزور مسلمان بھی یہ بات جانتا ہے کہ روز محشر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا نصیب ہو جانا خوش بختی ہے۔ وہ نبی جو اپنی امت کے لئے پوری زندگی تڑپتے رہے۔ سوچ اور عمل سے ہر لمحے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے امتیوں کو ایسے محبوب رکھتے ہیں جیسے شاید کوئی ماں اپنی اولاد کو بھی نہ رکھ سکتی ہو گی۔ ان کی متعدد احادیث اس بات کی گواہ ہیں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتیوں کو آگ سے بچانے کے لئے کیسے تڑپتے تھے۔

اب ایسے میں اگر کوئی سرپراسکارف سجا کر ظاہری حلیہ تو پیارے نبی کی تعلیمات کا اختیار کرے اور غیرمتنازعہ اسلامی تعلیمات میں سے ایک یعنی حجاب کے معاملے کے ایجنڈے کا حصہ بننے پر اس کے خلاف پورا پروگرام دے مارے۔ لفاظی کی پوری قوت صرف کر ڈالے۔ دلائل کے نام پر وہ سب جملے گود لے لے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پیدا کردہ شکوک و شبہات ہیں،تو کیا ایسے کسی شخص کو صاحب عقل کہا جاسکتا ہے؟ اسے اس قابل سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کو راہ دکھانے کے کام آسکے۔ وہ پرائز ہولڈر ہو یا اس کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جاتی ہو۔ ہر دو صورتوں میں بھلا کوئی کیوں اسے معتبر سمجھے؟

نہیں،بالکل نہیں۔ عاصمہ شیرازی آپ ہار گئیں۔ نودولتیوں یا کمزور لوگوں کی طرح تہذیب حاضر کی چمک دمک کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن اچھا ہوا کہ مجھ جیسے بہت سے اب احتیاط برتیں گے،وہ لپیٹ لپاٹ کر استعمال کئے گئے جھوٹے لفظوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔ بے شک اصل فیصلہ اسی کا ہے،وہی جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ بس یاد رکھنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ اپنی مٹی پر ہی چلو،فسانوں میں ڈھلنے سے بچ جاؤ گے۔ اور ایسا نہ کرنا چاہو تو یاد رکھو! مٹانے والے مٹ گئے،نام لیوا اب بھی باقی ہیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ عاصمہ شیرازی جواب دینا چاہیں تو ادارہ اسے من و عن پبلش کرے گا

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *