مغربی ماہرین کی قیامت کے بعد کی تیاریاں

مغربی ماہرین کی قیامت کے بعد کی تیاریاں

اوسلو :دین اسلام نے انسانوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات دیا ہے،مومن کے لئے دنیا ایک قید خانہ اور مشرک کے لئے جنت ہے،مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ایک دن یہ ساری دنیا ختم ہو گی اور سب کو اللہ تعالی کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب کتا ب دینا ہو گا ،قیامت جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی زندگی جو کبھی ختم نہ ہوگی برحق ہے۔

غیر مسلم ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے اس لئے وہ قیامت کے بعد تک کی تیاریوں میں مصروف رہتے ہیں ،آیئےاسی حوالے سے ان کی ایک کوشش کا احوال جانتے ہیں۔

اگر تباہ کن ایٹمی جنگ کے نتیجے میں کرہ ارض سے نباتاتی حیات کا صفایا ہو گیا، جس کا خدشہ سائنسدان بار بار ظاہر کر رہے ہیں،تو نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنے کے لئے لامحالہ فصلوں کی کاشت کی ضرورت ہوگی، مگر ان فصلوں کے لئے بیج کہاں سے میسر ہوں گے؟

یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے سائنسدانوں نے تقریباً ایک دہائی قبل شمالی قطب کی برف کے نیچے بیچوں کا ایک بہت بڑا زخیرہ قائم کیا جہاں اب لاکھوں اقسام کے بیج محفوظ ہیں جو کسی بھی عالمی تباہی کی صورت میں زندگی کا پھر سے آغاز کرنے کے لئے دستیاب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ساول بارڈ گلوبل سیڈ والٹ“ کہلانے والا یہ زخیرہ قطب شمالی کے ایک الگ تھلگ جزیرے پر قائم کیا گیا ہے اور 2008ءسے یہاں مختلف اقسام کے بیج جمع کرنے کا سلسلہ متواتر جاری ہے۔

 حال ہی میں بیجوں کے 50ہزار سے زائد نئے سیمپل اس سیڈ بینک میں پہنچائے گئے ہیں، ناروے اور قطب شمالی کے درمیان واقع اس سیڈ بینک سے بیج لے کر استعمال بھی کئے جا رہے ہیں، لیکن یہاں سے لئے گئے بیجوں کی جگہ نئے بیج جمع کروانا ضروری ہوتا ہے۔

 اس زخیرے میں اہم ترین غذائی فصلوں مثلاً آلو، چاول،  باجرہ، چنا، دالیں اور گندم وغیرہ کے بیج جمع کئے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہاں موجود بیجوں کی بڑی تعداد نئی تحقیق کی روشنی میں تیار کی گئی ہے جو نہ مساعد حالات میں بھی بہترین فصلیں پید اکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 حالیہ  جمع کروائے جانے والے 50 ہزار نئے سیمپل بنین، بھارت، لبنان، مراکش، نیدرلینڈز، امریکہ، میکسیکو، بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا، بیلارس، برطانیہ اور پاکستان سے لائے گئے تھے،اب اس سیڈ بینک میں ذخیرہ کئے گئے بیجوں کے مجموعی ڈیپازٹ 9لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *