پلاسٹک بوتل کا پانی بچوں کو بھوکا بناتا ہے

پلاسٹک بوتل کا پانی بچوں کو بھوکا بناتا ہے

واشنگٹن: کھانے پینے کی اشیا جو پلاسٹک پیکنگ میں ہوتی ہیں انسانی صحت پر برے اثرات ڈالتی ہیں،یہ بات کئی سابقہ تحقیقات سے سامنے آچکی ہیں اس لئے اس بات میں کسی شک وشبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جو حاملہ خواتین دوران حمل پلاسٹک کی بوتلوں میں محفوظ پانی پیتی ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھوک کنٹرول نہیں کر سکتے۔

اینڈوسرائن سوسائٹی واشنگٹن کی جانب سے کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق دوران حمل پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی کا استعمال پیٹ میں موجود بچے کے بھوک کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بچہ پیدائش کے بعد اور برے ہو کر بھی اپنی بھوک پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے موٹاپے کا شکار بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پلاسٹک میں ایک کیمیکل بسفونل اے(بی پی اے)پایا جاتا ہے جو ہارمونز کو ڈسٹرب کرتا ہے جس کی وجہ سے بچے موٹاپے کا شکار بنتے ہیں اس کے علاوہ یہ کیمیکل خواتین کے مخصوص زنانہ ہارمونز کو بھی تباہ کرتا ہے جس سے ان میں ماں بننے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

                                    سینئیر ریسرچر ڈاکٹر الفانسو ابیزید کا کہنا ہے کہ پلاسٹک پیکنگ میں استعمال کیا جانے والی کھانے اور پینے والی اشیا انسان کے جسم کے انرجی لیول کو بیلنس نہیں رہنے دیتیں جس کی وجہ سے موٹاپا اور دیگر بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک بوتل کا پانی استعمال کرنے سے نیوروجیوکل اور اٹینشن کے خلیات(اے ڈٰی ایچ ڈٰی)متاثر ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ آٹزم اور آئی کیو کی کمی کا بھی باعث بنتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *