سرفراز کو قیادت پی سی بی کیلئے چیلنج بن گئی

سرفراز کو قیادت پی سی بی کیلئے چیلنج بن گئی

اسلام آباد: نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں شکست کھانے والی پاکستانی ٹیم میں تبدیلیوں کی بات چل تو پڑی ہے تاہم اگلے ایک ماہ کے عرصے میں سلیکشن کمیٹی اور ٹیم انتظامیہ کو ایک صفحے پر لانا پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

پی سی بی کے لئے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق اور ایک روزہ ٹیم کے کپتان اظہر علی کو ایک ساتھ قیادت سے ہٹانا مشکل ترین چیلنج ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ انضمام اور مکی آرتھر الگ الگ سوچ رہے ہیں۔

دوسری جانب وکٹ کیپر بیٹسمین اور ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس کے لئے کپتان بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ اگلے ایک ماہ میں قیادت کا تاج سرفراز احمد کے سر پر سجا دیا جائے گا۔

اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی جانب سے مذکورہ کوششوں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے جو مصباح الحق کو ایک اور لائف لائن دینا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی سیریز سے قبل اکھاڑ پچھاڑ کےلئے سلیکشن کمیٹی نے کمر کس لی ہے۔

مجوزہ اصلاحاتی عمل کے دوران تجربہ کار شعیب ملک،عمر اکمل اور اسد شفیق کیلئے ون ڈے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ سلیکٹرز نوجوان مڈل آرڈر بیٹسمین آصف ذاکر،عثمان صلاح الدین اور آل رائونڈر فہیم اشرف کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

حد درجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق نے تین دن قبل ایک میٹنگ میں سلیکٹرز کے ساتھ پاکستان اے ٹیم کے انتخاب پر بات کی ہے۔ جس نے ایشیا کپ میں شرکت کرنا ہے۔

شنید ہے کہ سلیکٹرز پاکستان سپر لیگ کے دوران دبئی میں جمع ہوں گے۔ جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان،انضمام الحق اور مکی آرتھر کے ساتھ فیصلہ کن میٹنگ کریں گے۔

سینئر پاکستانی اسپورٹس جرنلسٹ عبالماجد بھٹی کے مطابق یہ میٹنگ سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ کے لئے نئی سمت کا تعین کرے گی۔ انضمام الحق سرفراز احمد کو کپتان بنانے کے حامی ہیں۔ لیکن مکی آرتھر نے شکست کے بعد پینک بٹن نہ دبانے کا مشورہ دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ ایسے کھلاڑیوں سے اب نجات حاصل کرلی جائے جو اپنے لئے کھیل کر ٹیم کو مشکل میں ڈال جاتے ہیں۔ شعیب ملک اور عمر اکمل نے آسٹریلیا میں انفرادی اننگز کھیلیں۔ البتہ میچ فنش نہ کرسکے اور آئوٹ ہوگئے۔ اسد شفیق بھی بری طرح ناکام رہے۔

پاکستان سپر لیگ کے دوران انضمام الحق،وسیم حیدر اور وجاہت اللہ واسطی دبئی میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ چوتھے سلیکٹر توصیف احمد اسلام آباد یونائیٹڈ سے وابستہ ہوں گے۔ جبکہ مکی آرتھر کراچی کنگز کی کوچنگ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انضمام الحق نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ مزید وقت ضائع کئے بغیر ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پر فارمرز کو موقع دیا جائے۔

انضمام الحق نے کہا کہ میں نے کپتانی کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوئی مشورہ نہیں دیا لیکن میرا خیال ہے کہ اس ذمہ داری کے لیے وہ کھلاڑی مناسب ہے جو تینوں طرز میں قیادت کرسکے۔

قبل ازیں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق پاکستان سپر لیگ میں اپنی کارکردگی کو دیکھ کر مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مصباح کی قیادت میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں 2-0 اور آسٹریلیا میں 3-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے اگست میں ٹیسٹ کی درجہ بندی میں پہلا نمبر حاصل کیا تھا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *