عامر لیاقت کا پروگرام،عدالت کا نیا حکم

عامر لیاقت کا پروگرام،عدالت کا نیا حکم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شاہ نواز طارق نے پیمرا کی جانب سے نجی چینل کے پروگرام کو بند کرنے سے متعلق پیمرا کا نوٹیفکیشن یکم فروری تک معطل کر دیا ہے،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جوابات داخل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

دوران سماعت درخواست گزار عامر لیاقت حسین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا نے نہ صرف اینکر کا پروگرام بلکہ چینل بھی بند کر دیا ہے جس پر پیمرا کے وکیل زاہد ابراھیم اور کاشف حنیف ایڈووکیٹس نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے اپنے پروگرامات میں ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو کہ نہ صرف نازیبا الفاظ کے ذمرے میں بلکہ نفرت انگیز اور غیر اخلاقی دائرہ کار میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے الفاظ کی ادائیگی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی،بحیثیت ریگولیٹری ادارہ پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا فرض پورا کرتے ہوئے ایسے پروگرامات کو روکے۔

پاکستان ٹرائب نمائندہ کراچی کے مطابق اس موقع پر پیمرا کی جانب سے عامر لیاقت کے پروگرامات کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار جس قسم کے الفاظ قومی میڈیا پر ادا کر رہا ہے جو عدالت میں پڑھ کر بھی نہیں سنائے جا سکتے اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ وہ ان پروگرامات کا بغور جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

کاشف حنیف کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت نے سینئر صحافی امتیاز عالم سمیت سول سوسائٹی کے افراد کے خلاف نفرت انگیز باتیں کیں اور لوگوں کو غدار،کافر اور توہین رسالت کا مرتکب قرار دیا اور اس کے لئے باقاعدہ مہم بھی چلا رہا ہے،پیمرا نے نوٹس جاری کرنے کے بعد پروگرام بند کیا ہے جو کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ ایسے پرگرام نشر نہ ہونے دے جس سے معاشرے میں نفرت اور انتشار پھیلے۔

اس موقع پر جبران ناصر کے وکیل بیرسٹر عبدالرحمان نے موقف اختیار کیا کہ عامر لیاقت نے ان کے موکل کے خلاف بھی پروپیگنڈا مہم چلائی جس سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

پاکستان براڈ کاسٹنگ کی جانب سے صائم ہاشمی عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے سینئر صحافیوں اور سول سوسائٹی کی شخصیات پر سنگین الزامات عائد کئے جس پر انہیں بھی تشویش ہے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ تمام فریقین کا موقف سنے گی۔

اس موقع پر عامر لیاقت کے وکیل عبدالکریم خان ودیگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا چینل بغیر کسی نوٹس کے بند کر دیا گیا جس پر پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ نوٹس جاری کیا گیا مگر اس کے باووجود پروگرام نشر کیا گیا،اگر یہ تحریری طور پر اس عمل کی یقین دہانی کرا دیں کہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کیا جائے گا تو پیمرا چینل کھول دے گی۔

عدالت نے اپنی آبزرویشن میں قرار دیا کہ پیمرا قانون کے تقاضے پورے کئے بغیر ہی نوٹس جاری کرتی ہے جس کے باعث عدالتیں ان کے نوٹیفکیشن کو معطل کرتی ہیں،پیمرا کو سوچنا چایئے کہ ان کے نوٹیفکیشن کیوں معطل ہوتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پیمرا کے نوٹیفکیشن کو یکم فروری تک معطل کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *