پاکستان اور انڈیا میں ایٹمی جنگ 11 برس بعد

پاکستان اور انڈیا میں ایٹمی جنگ 11 برس بعد

واشنگٹن: امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے دعوی کیا ہے کہ 2028ءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے کیونکہ بھارت اگلے 5 سال کے دوران دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بن جائے گا،جس کے بعد پاکستان روایتی حریف سے غیر موزوں طریقوں سے نمٹنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی طرف سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک  رپورٹ،عالمی رجحانات بڑھتے تنازعات،میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارت اگلے پانچ سالوں کے دوران دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بن جائے گا اور چین کی معیشت بھی فروغ پائے گی جبکہ پاکستان بھارت کی معاشی ترقی اور روایتی فوجی صلاحیتوں سے غیر موزوں ذرائع سے نمٹنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور ڈیلیوری ذرائع کو بڑھائے گا جس میں میدان جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں اور سمندر پر مبنی آپشنز بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں تین طرح کے حالات کی پیشگوئی کی گئی ہے جن میں قومی،علاقائی اور کمیونٹی سطح پر متبادل رد عمل سامنے آسکتا ہے اور اس تین طرح کے منظر نامے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ بھی شامل ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ایٹمی جنگ کی نوعیت اختیار کر سکتی ہے،دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر بھی کشیدگی موجود ہے جبکہ بھارت کی طرف سے الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ ملک میں ہونے والے دھماکوں میں پاکستانی دہشت گرد گروپ ملوث ہیں اس بنا پر دونوں ملکوں نے فوجی نقل وحمل بھی کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا صورتحال کے پیش نظر 2028ءمیں جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں تاہم امریکن ایمپائرپراجیکٹ کے معاون بانی ٹام اینجل ہرد امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *