پریس کلب پر پی پی پی کا حملہ،صوبائی وزیرکی انوکھی منطق

پریس کلب پر پی پی پی کا حملہ،صوبائی وزیرکی انوکھی منطق

لاڑکانہ: لاڑکانہ: ماضی میں پیپلزپارٹی کا گڑھ کہلانے والے سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں واقع پریس کلب پر پیپلزپارٹی سے تعلق رکنے والے ایک مسلح گروپ نے حملہ کر دیا اور توڑ پھوڑ کی۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کے مطابق منگل کی صبح مسلح افراد کے ایک بڑے گروپ نے پریس کلب لاڑکانہ پر دھاوا بول دیا اور وہاں عامل صحافیوں پر تشدد کے بعد پریس کلب کے صدر اور چیئرمین ایگزیکٹیوکے دفاتر پر بزور اسلحہ قبضہ کرلیا۔

مسلح افراد کی رہنمائی کرنے والے مفن مشوری اور ظفر ابڑو نے کہا کہ اگر کسی بھی صحافی نے بلاول بھٹو کی جانب سے ضمنی انتخبات میں مخالف امیدواروں کے نام بھی لئے تو اس سے بھی زیادہ برا حشر ہوگا۔ ل

واقعہ کے بعد اڑکانہ ڈویژن کے صحافیوں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

واقعہ کی منطق پیش کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما و صوبائی وزیر سہیل انور نے کہا کہ لاڑکانہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی منفی پروجیکشن کی وجہ سے پریس کلب کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پیش آئی۔

 وہ منگل کی شام لاڑکانہ پریس کلب کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفد کی سربراہی لاڑکانہ پریس کلب کے صدر ایس اقبال بابو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں ان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی جائےگی جو پیپلزپارٹی کے زیراہتمام ہونے والے ترقیاتی کاموں کی مثبت رپورٹینگ کریں گے۔

لاڑکانہ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہےاور یہاں منفی رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری جانب مقامی صحافیوں نے صوبائی وزیر کے اس مئوقف کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہے کہا کہ وہ غیرجانبدارانہ صحافت پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی اچھے کام کی مثبت اور غلط کام کی منفی رپورٹنگ کے لئے آزاد ہیں۔

صوبائی وزیر نے وفد کو یہ بھی بتایاکہ شفن مشوری ان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھتا ہے اور پریس کلب کے اس معاملے میں اس کا عمل عوام کی امنگوں کے مطابق ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *