’وزیراعظم کی تقریر زیربحث لائی جاسکتی ہے‘

’وزیراعظم کی تقریر زیربحث لائی جاسکتی ہے‘

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کا پاناما کیس کے متعلق کہنا ہے کہ عدالت تمام دلائل سننے کے بعد کیس مکمل کرچکی ہے۔جتنی محنت سے عدالت نے کام کیا اس کو پاناما لیکس کا جلد فیصلہ دینا چاہیے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام اسلام آباد بیورو کے مطابق اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے افتخار چوہدری نے کہا کہ جس نہج پر یہ کیس پہنچ چکا ہے اب کسی کمیشن کی ضرورت نہیں رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیئے گئے جوابی دلائل کمزور ہیں۔ چالیس چالیس کروڑ کے تحائف صرف ٹیکس بچانے کے لیے دیئے جاتے ہیں۔ جو لوگ ملک سے کروڑوں روپے غیرقانونی طور پر باہر بھیجتے ہیں اور غریبوں کے ٹیکس سے لوٹ مار مچاتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

نجی نیوز چینل آج نیوز کے میزبان رحمن اظہر سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ کی تقریر عوام کے لیے نہیں بلکہ ذاتی صفائی پیش کرنے کے لیے کی گئی تھی،وزیراعظم کی تقریر ان کا اعتراف ہے۔

استثنی کے حوالے سے قانونی پہلو کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی تقریر کو زیربحث لایا جاسکتا ہے اگر وزیراعظم کی تقریر غلط تھی تو پھر توصحیح بھی آنی چاہیے تھی ۔

پاناما پیپرز سے جڑے کیس کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ملک طوطی خان کا کیس نہیں ہے بلکہ یہ وزیراعظم کا مقدمہ ہے۔ اتنے اعترافات سامنے آچکے ہیں کہ کیس کی صورتحال واضح ہوگئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا اس وقت بارِ ثبوت وزیراعظم پر ہے۔ درخواست گزاروں نے اپنی معلومات فراہم کردی ہیں اب وزیراعظم کی باری ہے کہ جواب دیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ عدالت میں پیش ہو کراپنا موقف واضح کریں۔

افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط قانون شہادت آرڈیننس پر پورا نہیں اترتا بلکہ یہ تو پاناما کیس کے سامنے آنے کے بعد کی اختراع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنے بچوں کے لیے عدالت میں جوابدہ ہیں ۔تحریک انصاف نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اب فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے ۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *