مجھے اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے لیکن کیا کروں،،،،خواجہ سعد رفیق نے مجبوری بتا دی

مجھے اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے لیکن کیا کروں،،،،خواجہ سعد رفیق نے مجبوری بتا دی

اسلام آباد:مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما کی ایک کاروائی عدالت میں ہو رہی ہے اور دوسری کاروائی درخواست گزاروں نے باہر لگا رکھی ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مخالفین کی جانب سے عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کچھ ایسے ریمارکس ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے تو ہم ان پر تبصرہ نہیں کرتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عدالت کے باہر اپنی عدالت لگا لیں اور کیس کی غلط تشریح کریں۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عدالت کو فیصلہ کرنے کے لیے سوالات کرنے پڑتے ہیں اور جو فیصلہ آئے وہ قبول کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جائزہ لیا جائے تو عدالتی کاروائی کو گمراہ کن الفاظ میں پیش کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجبوراً رد عمل دیتے ہوئے جواب دینا پڑتا ہے اور بعد میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب کسی کی کردار کشی نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کا جو فیصلہ آنا ہوا وہ آجائے گا لیکن ہم ایک دوسرے کی کردار کشی میں اتنا دور تو نہیں نکل آئے کہ واپسی کا راستہ ہی نہ بچے؟

شیخ رشید کے بارے میں گزشتہ روز دیے گئے ریمارکس پر بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مجھے شیخ رشید کے بارے میں اتنے سخت لفظ استعمال نہیں کرنے چاہیے  تھے لیکن کیا کریں، ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ ہم بھی رد عمل میں بولتے ہیں۔

یاد رہے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے جب کہ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *