کراچی میں بارش نےحکومتی دعوےدھوڈالے

کراچی میں بارش نےحکومتی دعوےدھوڈالے

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارش نے حکومتی دعووں کے ساتھ شہر کو بجلی فراہم کرنے کے ذمہ دارادارے کے الیکٹرک کے اعلانات بھی دھو ڈالے۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق شہر میں بارش کے بعد نظرآنے والے مناظر میں سے دو بجلی نہ ہونا اور سڑکوں،گلیوں میں پانی کھڑا ہو جانا،ایسے ہیں جو شہر کے بیشتر حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف بیس مسرور کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی جب کہ سب سے کم گلشن حدید کے علاقے میں ہوئی۔

شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش کے بعد کے الیکٹرک کے فیڈر ٹرپ کر گئے جن میں سے کئی 20 گھنٹوں گزرنے کے بعد بھی بحال نہیں کئے جا سکے ہیں۔

کراچی کے ایک شہری ڈاکٹر محمد اسماعیل نے بارش کے بعد بجلی کے ہاتھوں ستائے جانے پر کہا بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی کے الیکٹرک کا نظام فالج کے مریض کی طرح مفلوج ہو گیا،کے الیکٹرک کے تمام دعوے کہ اس نے شہر میں بجلی کے نظام کو بہتر کیا صرف بکواس اور جھوٹ پر مبنی دعوے ہی رہے۔

دوسری جانب جمعہ کو ہونے والی ابتدائی ہلکی بارش کے بعد شہر میں 220 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے تھے۔ اسی دوران کورنگی کراسنگ پر واقعہ جمعہ بازار میں بجلی کاتار گر کر کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق جب کہ دو بیہوش ہوگئے۔

وقفے وقفے سے جاری بارش کے سلسلہ کے متعلق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا سلسلہ پیر کی شام تک جب کہ سردی کی حالیہ لہر مزید 24 گھنٹے  جاری رہے گی۔

پی اے ایف بیس مسرور کراچی میں 41 ملی میٹر جب کہ پی اے ایف بیس فیصل میں27 نارتھ کراچی 23 اور ائیرپورٹ پر 13 ملی میٹربارش ہوئی

یونیورسٹی روڈ پر 19،شارع فیصل پر 20،لانڈھی ملیر میں 8 اور گلش حدید میں سات ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد میں 23 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *