ہشیار:صرف پیسے لیں بیماریاں نہ لیں

ہشیار:صرف پیسے لیں بیماریاں نہ لیں

نیویارک: سینٹر آف جینومک اینڈ سسٹم نیویارک کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے مطابق روزمرہ استعمال ہونے نوٹ تین ہزار سے زیادہ بیکٹریا کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔

یہ بیکٹریا چھوٹی بیماریوں کے علاوہ گیسٹرک،السر اور کھانے کی الرجی کا سبب بنتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر مختلف ڈی این اے کے ٹکڑے جو مختلف لوگوں کے ہوتے ہیں جن میں منشیات استعمال کرنے والے بھی ہوتے ہیں  پائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جان کارلٹن کا کہنا ہے کہ نوٹ ایک ایسی چیز ہیں جسے بے شمار لوگ چھوتے ہیں جس وجہ سے یہ جراثیم کا گڑھ بنتے ہیں،ان میں ہر طرح کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جن کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ نوٹوں کو منشیات استعمال کرنے والے بھی چھوتے ہیں،اسی وجہ سے نوٹوں پر کئی طرح کے ڈی این اے کے ٹکڑے پائے گئے ہیں۔

اسی حوالے سے ایک برطانوی تحقیقاتی ادارے کے مطابق کرنسی نوٹوں پر فوڈ پوائزنگ کا سبب  بننے والے بیکٹریا سب سے زیادہ مقدر میں پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ناک اور منہ کی بیماریوں کی بیس فیصد وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ لوگ نوٹوں کو چھونے کے بعد اپنے چہرے پر ہاتھ پیر لیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی حل نہیں نکالا جا سکا کیونکہ دنیا بھر میں نوٹوں کی لین دین کے بغیر دنیا کا نظام  نہیں چل سکتا اس لئے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ احتیاط ہی کی جائے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *