برطانیہ میں مسلم خواتین ممبرز کے دلیرانہ بیانات

برطانیہ میں مسلم خواتین ممبرز کے دلیرانہ بیانات

لندن: برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے اینٹی ٹیررزم کی ممبر مسلم خواتین کافی سراہا جانے پر مغربی سازشی عناصربھی میدان میں آگے ہیں

ان سازشی عناصر کو مسلم خواتیں کا سراہا جانا ایک آنکھ نہیں بھا رہا جس کا ثبوت ان کے زہر میں بجھے ہو ئے بیانات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے چلنے والے انسداد دہشت گردی گروپ میں شامل مسلم خواتین یہود مخالف پروپگنڈا کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں شامل مسلم خواتین عائشہ اقبال اور تسمیہ بنت نعیم اپنے بیانات سے لوگوں میں اسرائیل کی نفرت پیدا کر رہی ہیں۔

سازشی عناصر کی جانب سے اپنی باتوں کو سچ ثابت کرنے کے لئے ان دونوں خواتین کے جھوٹے بیانات بھی شائع کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عائشہ اقبال نے نائن الیون واقعے کو امریکا کی اندر کی کہانی قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں اسرائیل کا عمل دخل قرار دیا ہے۔

اسی طرح تسمیہ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ تسمیہ نے بیان دیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کو سخت ناپسند کرتی ہیں اور اگر ان کے اس بیان سے کسی کو تکلیف ہے تو وہ اسے گھر میں قتل کر دے وہ کسی سے نہیں ڈرتیں۔

سازشی عناصر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں مسلم خواتین اکثر یہ کہتی ہیں کہ خدا کرے اسرائیل تباہ ہو جائے۔

اس حوالے سے وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں مسلم خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتی،ان کا کام قابل تعریف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے عناصر کو یہ جان لینا چائیے کہ وہ اس طرح ہمیں الگ نہیں کر سکتا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *