پھٹی جینزپرپابندی،طالبات کی پنجرہ توڑمہم شروع

پھٹی جینزپرپابندی،طالبات کی پنجرہ توڑمہم شروع

ممبئی: طالبات پر پھٹی جینز پہننے کی پابندی عائد کرنے والے ممبئی کے اچھی تعلیمی شہرت کے کالج کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈریس کوڈ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں پر پابندی عائد کرنا جانبدارانہ اور جنسی امتیاز پر مبنی ہے۔

ممبئی کے سینٹ زیوئیر کالج نے پھٹی ہوئی جینز پہننے کے متعلق ہدایت جاری کرنے سے قبل طالبات پر شارٹ پہننے کے علاوہ بغیربازوئوں کے ٹاپ اور نامناسب لباس پہننے پر پابندی عائد کی تھی۔

اس اعلان کے بعد بھارت بھر سے طالبات نے کالج کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لباس کے معاملے میں ہدایات جاری کرنا امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔

ماضی میں ہوئے ناخوشگوار واقعات کی بنیاد پر بھارت کی اکثر یونیورسٹیوں میں بھی شام 6 یا 8 بجے کے بعد طالبات کے لئے کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔ جب کہ طالبات کے لئے لباس کے متعلق الگ سے ہدایات دی جاتی ہیں۔

دہلی یونیورسٹی کی سابق طالبہ دیوانگنا کلیتا کا کہنا ہے کہ تحفظ کے نام پر طالبات کی پولیسنگ نہیں کی جانی چاہئے نا ہی مردوں کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے امتیازی قوانین ہونے چاہئیں۔

دیوانگنا طالبات کے ڈریس کوڈ کے خلاف جاری پنجرا توڑنامی مہم کا حصہ ہیں جو پورے دہلی میں جاری ہے۔ یونیورسٹیوں سے طالبات کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والی خاتون ایکٹیوسٹ کا کہنا ہے کہ ہم بڑے ہیں،ہماری آزادی اور نقل و حرکت پر پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ محفوظ ماحول کیسے فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب دہلی یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کسی مہم سے واقف نہیں ہیں نا ہی اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ نئی دہلی میں دسمبر 2012 میں ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کے بعد طالبات کے تحفظ کا معاملہ پورے ملک سمیت بین الاقوامی فورمز پر بھی ماحول بہتربنانے کے مطالبہ کی وجہ بنتا رہا ہے۔

اس موقع پر پولیس سمیت دیگر ذمہ داران کی جانب سے طالبات کو تجاویز دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے سیلف ڈیفنس کی تربیت لیں،دیرگئے باہر نہ رہیں اور لباس کے معاملہ میں باوقار رہیں۔

تعلیمی اداروں کے ساتھ وہاں تعلیم پانے والی طالبات کے والدین نے بھی کرفیو اور دیگرحفاظتی اقدامات کو حمایت کی ہے۔ جب کہ پنجراتوڑ مہم چلانے والیوں کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ تعداد میں لڑکیاں دیر گئے تک عوامی مقامات پر موجود رہیں گی اتنا ہی تمام خواتین محفوظ رہا کریں گی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *