بھارت پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے لگا

بھارت پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے لگا

ممبئی:بھارت نے پاکستان کے خدشات کے باوجود مغربی دریائوں کے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

پاکستان ٹرائب کو سینیئر انڈین حکام سے دستیاب اطلاعات کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ان کے معاون مغربی دریائوں کے پانی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوششوں میں تیزی کر دی ہے۔

تین دریا،سندھ،چناب اور جہلم انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سے گزرتے ہیں جبکہ ان کا زیادہ تر پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کی ملکیت ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند برسوں میں پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے اور نہریں نکال سکتے ہیں ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سندھ بیسن میں دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے رو سے تعین کردہ مقدار سے زیادہ پانی روک سکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی جانب سے اس امر کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ کروڑوں کی تعداد میں پاکستانیوں کا انحصار دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کے پانی پر ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات سندھ طاس معاہدے کے اصول و ضوابط کے مطابق ہوں گے اور یہ کہ انھوں نے اس معاہدے کے تحت بھارت کی ملکیت کا پانی استعمال کیا۔

جبکہ13دسمبر کو ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو جنوری تک کی مہلت دی تھی۔

ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوشش کریں۔

یاد رہے کہ بھارت نے دریائے نیلم کے پانی پر330میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر850میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *