“پلی بارگین کی منظوری چئیرمین نیب دیتا ہے”

“پلی بارگین کی منظوری چئیرمین نیب دیتا ہے”

اسلام آباد:ڈی جی آپریشنز نیب طاہر شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی ادارے اور میڈیا احتساب میں اہم کام کر رہے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آپریشنز نیب کا کہنا تھا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ سیکرٹری خزانہ بڑی رقم خورد برد کر کے فرار ہونا چاہتے ہیں۔

بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس اطلاع پر ہم نے ریڈ کیا اور سیکرٹری خزانہ کو رنگے ہاتھوں پکڑا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشتاق رئیسانی نے 65 کروڑ 32 لاکھ کیش حوالے کیا۔

طاہر شاہ کا کہنا تھا کہ مشتاق رئیسانی نے 65 کروڑ 32 لاکھ کیش حوالے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتاق رئیسانی نےکوئٹہ میں6،کراچی میں7کروڑ مالیت کی جائیداد حوالے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشتاق رئیسانی نےتقریباً 80 کروڑ مالیت کے اثاثے سرینڈر کیے۔ طاہر شاہ کا کہنا تھا کہ مشتاق رئیسانی نے پلی بارگیننگ کے تحت 80 لاکھ روپے مالیت کی 2 کاریں بھی سرینڈر کیں۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگیننگ کے تحت ملزم جیل نہیں جاتا،باقی ساری سزائیں لاگو ہوتی ہیں۔ پلی بارگیننگ کے تحت ملزم یا ان کے بچے کسی بھی سرکاری ملازمت کے اہل نہیں رہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگیننگ کی منظوری دینا چئیرمین نیب کا کام ہوتا ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پلی بارگین کا معاملہ زیر غور آیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *