9جملےجوآپ پرکسی کابھی اعتمادقائم کرسکتےہیں

9جملےجوآپ پرکسی کابھی اعتمادقائم کرسکتےہیں

الفاظ جادوئی اثر رکھتے ہیں،مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیا اور کیسے ہوں؟ آئیں آج ہم آپ کو 9 ایسے جملوں سے متعارف کرواتے ہیں جنہیں اپنی روزمرہ گفتگو میں شامل کر کے اپنے اور مخاطب کے درمیان اعتماد اور باہمی تعاون کا خوبصورت رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔

1۔ احوال دریافت کریں

دوستوں اور کولیگز کو پاس سے جلدی میں گزرتے ہوئے ایک بے جان اور روکھا سا “کیا حال ہے” کہنے کے بجائے مکمل یکسوئی سے ان کے پاس کچھ لمحے رکیں اور بامعنی گفتگو کریں۔ آپ اس کا آغاز ان کی ظاہری حالت سے کر سکتے ہیں مثلا، آپ اچھے لگ رہے ہیں،خوش لگ رہے ہیں،اداس یا تھکے ہوئے وغیرہ وغیرہ،یا پھر اگر وہ چھٹی گزار کر آئے ہیں تو آپ ان سے ان کے چھٹی کے معمولات پر گفتگو کریں،اگر ان کے خاندان میں کوئی بیمار ہو،اس کا حال پوچھ لیں۔

پی ایچ ڈی مصنف ڈاکٹر پال زیک کا بیان کردہ یہ رہنما اصول انہوں نے امریکہ کی 40 کامیاب ترین اور عوام کے اعتماد کی حامل کمپنیز کا سروے کرنے کے بعد تجویز کیا ہے۔ان کے مطابق یہ بات چیت گو کہ کافی گہری ہے،لیکن اس سے کولیگز اور دوستوں کے درمیان ایک جذباتی بندھن قائم ہو جاتا ہے،اور اور ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

2۔ مجھے آپ کی رائے پسند آئی

 اگر آپ کسی کے نظریات کے مخالف بھی ہوں تب بھی ان کو یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کے نظریات کا احترام کرتے ہیں،ان کے نقطہ نظر کو بدلنے کی کوشش کرنے سے پہلے ان کو یہ کہیں کہ “مجھے آپ کی رائے پسند آئی” اور اس کے بعد ان کو مثال دے کر اپنی رائے سے بھی آگاہ کر دیں۔ اس سے آپ کے کولیگ یا آپ کے دوست آپ پر بہت ذیادہ اعتماد کریں گے۔ اگر آپ سیدھا سیدھا ان کو اپنی رائے پر لانے کی کوشش کریں گے تو اس سے وہ آپ کی رائے کو خود پر تنقید سمجھیں گے اور اس سے ماحول نا خوشگوار ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

3۔ میرا یہ خیال ہے

 جب آپ اپنی کسی رائے کا اظہار کرنے لگیں تو اس سے پہلے اپنے ساتھیوں کو مکمل احساس دلائیں کہ آپ ان کی اور اپنی رائے کو برابر سمجھ رہے ہیں،اور اپنی رائے دیتے ہوئے کبھی یہ نہ کہیں کہ “میں یہ چایتا ہوں” بلکہ ہمیشہ یہ کہیں کہ “میرا یہ خیال ہے”۔ اس “میں” کے بجائے “میرا” کا استعمال آپ کی رائے کو حکم کی بجائے آپ کے ساتھیوں کو مشورے جیسا لگے گا۔

مندرجہ بالا دونوں پوائنٹس ڈاکٹر لنڈا گلڈنزوف سنائڈر کے ہیں،جونارتھ کیرولینا کی A&T یونیورسٹی کی بزنس ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی چئیر پرسن ہیں،اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الفاظ سے بھی اجتناب کریں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ آپ دوسرے فرد کو غلط سمجھ رہے ہیں۔

4۔ آغاز اپنے بجائے مخاطب سے کریں

کوئی بھی میٹنگ شروع کرتے ہوئے بجائے اپنی کامیابیوں کو دوسروں کے سامنے ظایر کرنے کے،اور ان کو اپنے طریقہ کار پر لانے کے،ان کو اپنی کامیابی اپنے ہی طرز پر حاصل کرنے کی طرف راغب کریں،اگر آپ میٹنگ کا آغاز اپنے آپ سے کریں گے تو آپ کے کولیگز کھل کر آپ سے بات نہیں کر پائیں گے،ان کا اور اپنا طریقہ کار واضح کرنے کے بعد ورکر کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ کونسا طریقہ ذیادہ مناسب ہے،یہ کہنے والی ڈاکٹر کارلا کیمبرلین ہیں،جو پنسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی میں زبان و ادب کی پروفیسر ہیں،ان کے مطابق اگر آپ آپ ورکر کو اپنا فیصلہ سنائیں گے تو وہ اس سے ان کے کام کرنے کا طریقہ کار دفاعی ہوگا،اور وہ آپ پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔

5۔ میں کیسے آپ کے کام آؤں

 ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایلیسن وڈ بروکس کے مطابق جب آپ کے کولیگ کو جاب پر پہنچنے میں دیر ہو جائے اور اس کی ان کے پاس معقول وجہ موجود ہو،جیسے کہ بارش یا ٹریفک،تو ان کی بات نا صرف سنیں،بلکہ اس پر افسوس کا اظہار بھی کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے اور الٹا ان کو ڈانٹیں گے تو ممکن ہے وہ آپ سے آئندہ جھوٹ بولنا شروع کر دیں۔

اپنے ورکر سے صرف عمومی ہمدردی مت جتائی جائے،بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اس پو اس چیز کا اظہار کیا جائے کہ جو اسے اور آپ کو پریشان کررہی ہے،ڈاکٹر گلڈنزوف سنائڈر کے مطابق آپ کا یہ کہنا کہ “میں کیسے آپ کے کام آؤں”،آپ کو اپنے ورکر کے بہترین ہمدرد کے طور پر سامنے لائے گا۔

6۔ مشترکات تلاش کریں

ڈاکٹر زیک کے مطابق اگر ہم اپنے ورکر کو یہ احساس دلائیں کہ ہم ان جیسے ہیں،یا وہ ہمارے جیسے ہیں،تو اس سے کمیونیکیشن پر بڑا خوشگوار اثر پڑتا ہے،اگر ورکر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کسی ایسے شخص کا حوالہ دیا جائے،جسے وہ اچھی طرح جانتا ہو،یا اس کے کسی دوست کو اپنا دوست قرار دیا جائے تو جذباتی لحاظ سے آپ کا ورکر ایک دم آپ پر مکمل اعتماد کرنے لگے گا،ڈاکٹر زیک کے مطابق اپنے جیسے لوگوں پر اعتماد کرنا ذیادہ آسان ہوتا ہے۔

7۔ غلطی تسلیم کریں

ممکن ہے آپ سوچتے ہوں کہ غلطی کرنے سے آپ کے مرتبے پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے،لیکن حقیقتاً اپنی غلطی کو تسلیم کر لینا آپ کے ورکر کو احساس دلاتا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں،ڈاکٹر زیک کہتے ہیں کہ جو لوگ خود کو غلطی سی پاک تصور کریں ان کی نسبت وہ جو غلطیاں کرتے ہیں،وہ ہمارے لئے ذیادہ قابل توجہ ہوتے ہیں۔ٹیم ممبر یا دوستوں کے سامنے آغاز میں غلطی کو تسلیم کرنا کچھ مشکل ضرور لگے گا،لیکن پھر آپ کا ذہن اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی عادات کو بدلنے کی کوشش کرے گا،اور پھر یہیں سے آپ میں معاف کرنے کی خاصیت بھی پیدا ہوگی۔

8۔ مدد طلب کریں

جب آپ نے تسلیم کر لیا کہ آپ سے بھی غلطی ہونا ممکن ہے،تو اگلے قدم کے طور پر آپ کسی سے مدد بھی مانگ سکتے ہیں،یہ چیز آپ کو آپ کے ورکرز کے لئے ذیادہ پرکشش اور ذیادہ با اعتماد بنا دے گی۔ ڈاکٹر وڈ بروکس کے مطابق ان کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جو مدد مانگنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی ان کی کارکردگی پر سوال نہ اٹھا دے،ان پر لوگ کم اعتماد کرتے ہیں۔ جب کہ وہ جو نا صرف غلطی تسلیم کرنے کی اہلیت اور مدد مانگنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہوں،انہیں زیادہ قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آپ لوگوں پر اعتماد قائم کرنے کے لئے باڈی لینگویج کا بڑا اچھا استعمال کر سکتے ہیں۔

جب آپ کسی کی مدد لینے کو تیار ہو جائیں تو اس کے ساتھ ہی اپنے مددگار ورکر کو ہر ہر بات پر ہدایت نا دیں،نا اسے ٹوکیں،بلکہ اس کو اپنی صلاحیتوں اور محنت پر مکمل انحصار کرنے دیں،اسے اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کا اختیار دے کر آپ اس کی بہترین صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

9۔ اوہ،ہممم،اہاں

اوہ،ہممم،آہاں جیسے بے معنی لیکن دلچسپی کا اظہار کرتے الفاظ کا اس وقت استعمال جب آپ اپنے ورکر کے ساتھ اہم میٹنگ میں ہوں،ورکر کی کام میں دلچسپی کو بڑھا دیتا ہے،ڈاکٹر گلڈنزوف کے مطابق اپنے ورکر کے بات چیت میں ان الفاظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہیں،لیکن ان کاکہنا ہے کہ ایسے الفاظ کا استعمال فطری ہو،اگر آپ بہت ذیادہ ایسے الفاظ کو استعمال میں لائیں گے تو ممکن ہے اس سے آپ کی غائب دماغی ظاہر ہو۔

Samina Riaz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *