ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟

ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟

ٹیکنالوجی اور بے قابو ترقی کے موجودہ دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وه اچانک کیا جانے والا ایٹمی حملہ ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ایسی ناخوشگوار صورتحال کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ اقدام کر کے آپ اپنا اور اپنے پیاروں کا تحفظ کر سکتے ہیں۔

ایٹمی حملے کا خطره کہاں ہے؟

زمین کہلانے والے ہمارے سیارے پر اس وقت 15،000 کے قریب ایٹمی ہتهیار موجود ہیں۔ جو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک یا قوتوں کے پاس موجود ہیں۔

نشانہ کون؟

کسی بھی ملک کا دارالحکومت،اہم فوجی چهاونیاں،اہم شہر،مواصلاتی مراکز یا بندرگاہیں،پانی کے ذخیرے اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہو سکتے ہیں۔

خدانخواستہ آپ بھی کسی ایسی کارروائی کا شکار ہوں تو درج ذیل اقدامات ضرور کر لیں:

حالات پر نظر رکهیں

عمومی تصور یہ ہے کہ جنگ میں ایٹمی حملہ آخری آپشن ہوتا ہے لیکن دفاعی یا جارحانہ عسکری حکمت عملیوں کے تنوع کی وجہ سے ایسا ابتدا میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس کیفیت میں اپنے ملکی اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکهیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکهیں۔

پناه گاه

ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے بچائو کا اہم طریقہ ایک مظبوط اور محفوظ پناه گاه کی موجودگی ہے۔ یہ زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی۔ پناہ گاہ زمین کے اوپر بهی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی۔ زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتهروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں۔

سامان

کسی بھی ایٹمی حملے سے بچائو کی غرض سے بنائی گئی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو دو تا تین ہفتوں کے لیے کافی ہو۔ اس سامان میں درج ذیل اشیا موجود ہونی چاہئیں۔

‏1- ٹن پیک کهانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پهل اور بینز وغیره هوں تاکه فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے۔

‏2- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں۔

‏3-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا۔

‏4- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جهٹکے کے بعد ناکاره ہوجائے گا)۔

‏5-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا۔

‏6- کتابیں،جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی۔

‏7- فرسٹ ایڈ کٹ۔

‏8- ادویات جن میں بخار،سردرد اور جسم درد کی گولیاں شامل ہوں۔

9۔ بییٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام مثلا ٹارچ وغیرہ۔

10۔ پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں ‏(دهماکے کے اول دن استمال کریں)۔

11۔ اینٹی سیپٹک اسپرے

کسی ایٹمی حملے سے قبل کی اس تیاری کے بعد خدانخواستہ وہ مرحلہ آجائے کہ جس میں ایٹمی حملہ ہو جائے تو:

کسی بهی حادثے یا حملے کی صورت میں زنده بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکهنا ہے.

ایٹمی حملہ ہونے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا “مشروم” کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے که یہ ایٹمی حملہ ہے.

ایٹمی تباهی کے تین مراحل ہیں۔

ابتدائی دهماکہ

فال آوٹ

تابکاری طوفان

اگر ایٹمی وار هیڈ آپ کی موجودہ جگہ کے ڈیڑھ میل کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمه پڑھ لیں اور بیٹهے ہیں تو کهڑے ہوجائیں اگلے تین سیکنڈز کے اندر اندر آپ کا وجود بهاپ بن کے اڑ جائے گا. بلاشبہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے تاہم اسباب کی دنیا میں اسباب کی فراہمی اسی ذات کی عائد کردہ شرط ہے جو سب کچھ پر قادر ہے۔

وارہیڈ آپ کی موجودہ جگہ سے ڈیرڈھ میل دور گرا ہے تو ایٹمی ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنے فاصلے پر موجود زندگی بچ سکتی ہے۔

پهلا دهماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیاده سے زیاده 5 سیکنڈزہیں. دهماکے کی مخالف سمت میں کسی بهی ٹهوس چیز،دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں،زمین پر الٹا لیٹ جائیں،اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکهتے ہوئے کانوں کو ڈهانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں،اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دهماکہ سنائی دے گا جو کے پهلے دهماکے سے سوگنا زیاده طاقتور ہوگا اور شدید زلزله پیدا کرے گا۔

دهماکہ سنائی دینے کے دو سے تین سیکنڈ بعد اٹھ کهڑے ہوں اور اپنی پناه گاه کیطرف بهاگیں.

فال آوٹ:

پهلے دماکے میں ناصرف سینکڑوں عمارات دهواں بن کے اڑ گئی ہوں گی جن کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بهرے “الفا پارٹیکلز” کی بارش بهی شروع ہوجائے گی. دهماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکهیں. اور اوپر سے گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں۔

اگر آپ صحیح سلامت پناه گا تک پہنچ جاتے ہیں تو ایک فال آئوٹ سے بچائو کا مرحلہ بھی گزر گیا۔

پناه گاه میں داخل هوتے ہی ایک لمحه ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کهچے اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.

اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناه گاه میں کئی دن تک رہنا ہے.‏ یاد رکهیں:‏

‏1-کم سے کم کهائیں.‏

‏2- جتنا ممکن ہوسکے سوکر وقت گزاریں.‏

‏3- ریڈیو سنتے رہیں اور باهر کے حالات سے باخبر رہیں.‏

‏4-اپنی ہمت بحال رکهیں.‏‎

‏5-اگلے چند دن میں آپ ریڈیو ایکٹو سکنس کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار،گهٹن،الٹیاں ہوسکتی ہیں. ایسی کیفیت میں اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.

اگر چہ یہ وقت مختلف ہو سکتا ہے تاہم عمومی تیاریوں کے پیش نظر امید کی جا سکتی ہے کہ دهماکے کے زیاده سے زیاده 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پہنچ جائیں گے. ریڈیو سنتے رہیں اور جب آپ کو یقین ہوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باہر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.

اگر تو کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناه گاه سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تهم چکا ہوگا.

سب ختم نہیں ہوا،یہ نئی ابتدا کا وقت ہے

پناه گاه سے نکلتے ہی ممکن ہے آپ کو پہلا احساس یہی ہو کہ لاکهوں میں سے صرف آپ ہی زنده بچے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو متاثرہ علاقہ چهوڑدیں۔

کسی ایٹمی حملے کی صورت میں زندہ بچ جانے کے بعد یاد رکھیں کہ جو گزر گیا وہ رائیگاں نہیں جانا چاہئے۔ آپ کے ارد گرد موجود پیاروں کو جس دشمن نے فنا کیا ہو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اسے موثر اور نتیجہ خیز جواب دیا جائے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام لائف اسٹائل ڈیسک نے اوپر دی گئی تحریر ماہرین کی تجاویز سمیت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز پر زیر گردش حفاظتی تجاویز پر مبنی تحریروں سے اس لئے مرتب کی گئی ہے تاکہ اردو پڑھ سکنے والے اس اہم موضوع سے آگاہ ہو سکیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *