غیرملکی کارٹون نشریات اور بچے

غیرملکی کارٹون نشریات اور بچے

پاکستان میں عرصہ دراز سے انگریزی کارٹون دکھائے جاتے رہے ہیں اور بعض اوقات ان کے اردو ورژن بھی نشر کئے گئے،تاہم ان سب کارٹون شوز کی اہم بات یہ تھی کہ یہ بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کارٹونز کا معیار گرنے لگا،تاہم اس میں زیادہ فکر مندی کی بات یوں نہ تھی کہ ایک تو اس کا معیار قدرے بہتر تھا دوسرا یہ انگریزی زبان میں ہوتے تھے جس کے باعث بچوں میں اس کے اثرات انتہائی محدود تھے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ ان کارٹونز کا نہ صرف معیار انتہائی گھٹیا ہے بلکہ ہندی میں ڈب ہونے کی وجہ سے بچوں کے ذہنوں میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

اس کی حالیہ مثال جاپانی کارٹون شو ڈورے مون (Doraemon) و دیگر کارٹونز شو سے لی جاسکتی ہے جنہیں ہندی میں ڈب کیا جاتا ہے اور ہندی میں بہت سے سارے اردو کے الفاظ بھی شامل ہیں تاہم اب بھارت میں بھی اس کارٹون پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

انڈین براڈکاسٹنگ فاؤنڈیشن (آئی بی ایف) کے براڈکاسٹنگ کوٹینٹ کمپلینٹس کونسل (بی سی سی سی) میں دائر ایک درخواست میں جاپانی اینی میشن سیریز ڈورے مون پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ یہ کارٹون سیریز بچوں کی پوری نسل کی ذہنی سطح پر منفی اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ کارٹون سیریز ایک روبوٹک بلی کے گرد گھومتی ہے جس کا نام ڈورے مون ہے،یہ روبوٹک بلی 22 ویں صدی سے ہمارے دور میں آجاتی ہے تاکہ نوبیتا نوبی (Nobita Nobi) نامی لڑکے کی مدد کرے۔

اسی طرح کے ایک اور جاپانی کارٹون شن چان پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بی سی سی سی  کے سیکرٹری جنرل اشیش سنہا نے دائر درخواست میں بتایا کہ بچوں کو یہ کارٹون سیریز دیکھنے کی لت پڑگئی ہے اور انہوں نے کھانے اور ہوم ورک کرنے کے معاملے پر اپنے والدین کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔

کسی مخصوص چینل پر پابندی لگانا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ اس پروگرام کو بند کیا جانا چاہیئے۔

اس حوالے سے درخواست میں ایک سروے رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق بھارت بھر کے والدین نے اس مسئلے کے بارے میں انکشاف کیا ہے اور والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ہندی اور انگریزی میں ڈب یہ کارٹون شو پرتشدد مزاج کے حامل ہیں جس سے بچوں کے تحت الشعور پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس ضمن میں ڈزنی انڈیا،ہنگامہ ٹی وی اور انڈین براڈکاسٹنگ فاؤنڈیشن،یونین منسٹری اطلاعات و نشریات،یونین منسٹری برائے خواتین و اطفال ترقی مدہیہ پردیش میں قانونی نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں۔

ایک نوٹس ڈورے مون کے کھلونے پیشکش کرنے والے میکڈانلڈ کو بھی بھیجا گیا ہے ۔

ایک والد نے بتایا جب میرے ایک چھوٹے لڑکے نے نوبیتا نوبی (ڈورے مون کا مرکزی کردار) کی نقل کی تو میں نے اس کی حرکت پر تالی بجائی تاہم اشیش سنہا اس وقت حیران رہ گئے جب اس لڑکے کے والدین نے بتایا کہ وہ ڈورے مون کا اتنا عادی ہوچکا ہے کہ وہ کارٹون کردار اس کی زندگی اور نیند پر بھی طاری ہوگیا۔

وہ مسلسل مشینی آلات مانگتا رہتا ہے یا پھر اسے نوبیتا کی طرح کوئی معجزہ ہونے کی امید ہوتی ہے۔یہ بھارت میں ان جاپانی کارٹونوں کی نشریات پر پابندی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

گوالیار ہائی کورٹ کی وکیل ایڈوکیٹ سونالی سریاونشی نے بتایا،  ایک قسط کے دوران بچے والد سے جلتے سگریٹ سے دھویں کے چھلے بنانے کی درخواست کررہے تھے جو انتہائی قابل اعتراض بات ہے،اس کے نتیجے میں بچے اپنے والدین سے نامناسب کام کے مطالبے کرتے ہیں۔

یہ پانچ سالہ بچے کا روز کا معمول ہے جو وہ دیکھتا ہے۔ ڈورے مون کارٹون کے اسکرین شاٹس کو پاکستان کے کروڑوں بچے  دیکھ رہے ہیں اور بچے اسے انتہائی ضد کرکے دیکھتے ہیں۔

یہ ہندی ڈزنی چینل پر پورا دن چلتا ہے اور یوں بچوں کا پورا دن ٹی وی کے سامنے گزرتا ہے۔

یہ بچوں کو سکھاتا ہے کہ کام کرنے سے کیسے جان چھڑائی جائے،ناکارہ گیجٹس پر انحصار کیا جائے اور کس طرح سے ہراساں کرنے کو فروغ سمیت دیگر غلط چیزیں شامل ہیں۔

اور پھر یہ نہ بھولیں کہ بچوں کے اس ‘کارٹون’ میں نوبیتا نوبی اور شیزوکا (Shizuka) کے درمیان رومانس بھی دکھایا جاتا ہے۔ جس میں نوبیتا نوبی کو دکھایا جاتا ہے کہ شیزوکا کو کس طرح متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسکے بارے میں خواب دیکھتا رہتا ہے۔

یہ ناموزوں مناظر ہیں جن میں گھٹیا جملے استعمال کئے گئے ہیں جیسے ‘شیزوکا تم میرے گھر کب آؤگی؟ میرے تمھارے لئے کامکس لایا ہوں’۔

یہاں تک کہ یہ بھی پوچھا جاتا ہے ‘شیزوکا، تم تو رات کو گھر پر اکیلی ہوگی نا؟ میں آجاؤں تاکہ تمھیں ڈر نہ لگے؟۔” تھوڑی دیر کے لئے تصور کریں کہ ایک پانچ سال کا بچہ یہ چیزیں دیکھ رہا ہے۔

اس کے علاوہ مزید یہ ہے کہ جب ڈورے مون نوبیتا نوبی کو مشینی آلہ دیتا ہے تو وہ اس کو اپنی ماں پر آزماتا ہے۔ نوبیتا نوبی کے لئے یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس مشینی آلے کی وجہ سے اس کی والدہ کو نقصان پہنچ جائے۔

جب اس کی ماں کو کچھ ہوجائے تو وہ کہتا ہے،’ماں تم ابھی تک نہیں سدھری’۔۔۔ پھر وہ اپنی محبوبہ شیزوکا کے پاس جاتا ہے اور اگر مشینی آلہ شیزوکا کو نقصان پہنچادے تو وہ مشینی آلہ پھینکتے ہوئے چلاتا ہے،’شیزوکا مجھ سے ناراض ہوگئی’۔

وہ اپنی ماں کو بھی ‘گھمنڈی’ بولتا ہے۔ یہ وہ اقدار ہیں جو آپ اور ہم سب کے بچوں کو سکھائی جارہی ہیں۔

اسی طرح ایک اور جاپانی کارٹون شین چین ہے۔ شین چن دراصل اس کارٹون میں ایک مرکزی کردار کا نام ہے وہ اپنی ماں کا مذاق اڑاتا رہتا ہے۔

وہ اپنی ماں کے وزن کو بھی نشانہ بناتا ہے اور اپنی ماں کو یہ لقب دیتا ہے کہ ‘بچے چُرانے والی موٹی بڑھیا’۔

حالانکہ وہ نہ ہی موٹی ہوتی ہے اور نہ ہی بوڑھی،اس کے علاوہ شن چین کو مختلف لڑکیوں سے جھوٹی محبت کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور انہیں پکارنے کے لئے نامناسب تبصرے کرتا رہتا ہے جو بچوں کے دیکھنے یا سیکھنے کے لئے ناموزوں ہے۔

یہ پیغامات ڈھکے چھپے نہیں ہوتے۔ یہ ہماری نئی نسل کو تباہ کررہے ہیں اور ذہنوں کو آلودہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کارٹون میں ہندی الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں جو اب ہمارے بچوں نے بولنا شروع کردیا ہے۔

شانتی، سپنا، ناٹک جیسے وہ چند الفاظ ہیں جو اب 10 سال کی عمر کے بچے کی زبان پر ہوتے ہیں۔

 سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ بڑے اچھا برا خوب سمجھتے ہیں لیکن بچے اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

پاکستان کے لاکھوں بچے ڈورے مون کارٹون کا ہندی ورژن ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہ صرف کارٹون نہیں یہ آنے والی نئی نسل کے بڑے حصے کو تباہ کرنے کا بہترین نسخہ ہے کہ اپنی ثقافت اور اقدار کو تباہ کردیں۔

بھارت کے بعد پاکستان میں بھی پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی نے اس کارٹون پر پابندی لگانے کی قرارداد بھی پیش کی ہے۔

یہ اب حکومت کے کام کرنے کا وقت ہے۔ سب سے پہلے پیمرا کو یہ غیرمعیاری چینل بند کرنے کی ضرورت ہے جس پر ڈورے مون کے علاوہ بھرپور انداز سے گلیمرس مواد ہے۔

دوسرا اس شعبے میں حکومت کی جانب سےسرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز ریٹنگز اور اشتہارات کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں تاہم وہ بچوں سے متعلق اینی میشن مواد کی تیاری کے لئے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ حال ہی میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل سی ٹی وی (See TV ) نے بچوں کے لئے جان کارٹون سیریز شروع کی ہے جو بہت اچھی کاوش ہے۔

تاہم اس کام کو دیگر میڈیا ہاؤسز کی جانب سے بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے یوٹیوب پر اس کارٹون شو کی ویڈیوز دستیاب ہیں اور اب تک اس کی 100 سے زائد قسطیں نشر ہوچکی ہیں۔

حکومت کو بچوں کے لئے کچھ دلچسپ کارٹون شوز تیار کرنے چاہیئں جنہیں ہم غیرملکی شوز سے تبدیل کرکے اپنے بچوں میں متعارف کراسکیں۔ پاکستان میں بہت عظیم لکھاری موجود ہیں۔ ہالی ووڈ میں اینی میشن والی ویڈیوز بنانے والے پاکستانی ماہرین موجود ہیں اور وہ حقیقی معیاری مواد تیار کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے صرف سرمایہ کاری اور ارادے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو مختصر مدت میں اس سرمائے کی واپسی کی فکر نہیں کرنی چاہیئے۔ اس کے بجائے وہ طویل المیعاد حکمت عملی پر توجہ دے اور میڈیا کی اس جنگ میں پاکستانی و اسلامی اقدار بچائے۔

اگر حکومت بچوں کے ان نام نہاد کارٹون شوز کے نقصان دہ اثرات کو سمجھ جائے تو اس میدان میں ہونے والی سرمایہ کاری اونٹ کے منہ میں زیرہ محسوس ہوگی۔

امید کرتے ہیں کہ حکومت اب قوم کے مستقبل کے بارے میں یقینا فکر مند ہوجائے گی۔

بلاگر:ناصر تیموری

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *