گلن پیروکار بیٹے کیلئے ترک والدین کا انوکھا اعلان

گلن پیروکار بیٹے کیلئے ترک والدین کا انوکھا اعلان

انقرہ: ترکی میں پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد معاشرتی زندگی کے متعدد ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جنہوں نے سوچنے والوں کے لئے بہت کچھ مہیا کر دیا ہے۔

اسی سلسلے کا تازہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ترک والدین نے لاکھوں ڈالر سالانہ کمانے والے اپنے اس بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا جو امریکن باسکٹ بال سرکٹ کے معروف کھلاڑی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام ترکی ڈیسک کے مطابق امریکی ریاست اوکلاہاما کی ٹیم اوکلاہاما تھنڈر کے لئے کھیلنے والے انس قنطار کی امارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے گزشتہ ایک برس میں ایک کروڑ چونسٹھ لاکھ امریکی ڈالر کمائے تھے۔

انیس سو بیانوے میں ترک والدین کے ہاں پیدا ہونے والے انس نے اپنے چھ فٹ گیارہ انچ قد کے ساتھ امریکی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن میں اپنا بھرپور مقام بنا رکھا ہے۔

ترک والدین کی جانب سے اپنے کماؤپوت سے لاتعلقی کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب انس نے ترکی میں پندرہ جولائی کی بغاوت کے ماسٹر مائنڈ قرار دیے گئے فتح اللہ گولن سے اپنی وابستگی ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انس کے والد محمد قنطار کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کو گلن نے اپنے ٹرانس میں لے رکھا ہے۔ ترک قوم اور صدر سے معافی مانگتے ہوئے محمد قنطار کا کہنا تھا کہ وہ ایسے بیٹے کا والد ہونے پر شرمندہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ترک قوم اور صدر کے متعلق اپنے بیٹے کے توہین آمیز رویہ اور گستاخیوں پر شدید غم و غصہ کی کیفیت میں ہیں۔

محمد قنطار کے ایک کزن کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان انس کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دے گا کہ وہ فیملی کا نام استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصہ سے انس سے رابطے سے محروم ہیں کیونکہ گلن تحریک نے اس کی دولت اور پوزیشن کو استعمال کرنے کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔

دوسری جانب انس کے بڑے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ اسے امریکا اس لئے نہیں لے گئے تھے کہ وہاں اس کا باسکٹ بال ٹیلنٹ سامنے آئے اور پھر نوبت یہاں تک پہنچے۔

انس اپنے آفیشل ٹوٹر اکاؤنٹ پر ناصرف ترک صدر کو انتہائی نامناسب انداز میں نشانہ بناتے ہیں بلکہ فتح اللہ گولن کے ہفتہ وار خطاب کو بھی شئیر کرتے ہیں۔

والدین کا ردعمل سامنے آنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ گلن اور ان کی خدمت تحریک کی خاطر اپنے والدین اور بھائی سمیت خاندان کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اپنے ردعمل میں باسکٹ بال کھلاڑی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی بھی اس مقصد کے لئے قربان کر سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *