ملک کے دفاع کے لئے 50 لاکھ لوگ سڑکوں پر

ملک کے دفاع کے لئے 50 لاکھ لوگ سڑکوں پر

انقرہ: اکیس دن قبل ناکام خونی بغاوت کا شکار ہونے والے ترکی نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کی قیادت میں سڑکوں کو سجا لیا۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام ترکی ڈیسک کے مطابق استنبول کے مرکزی چوک پر ترک تاریخ میں پہلی بار حکمراں جماعت کی قیادت میں اپوزیشن کی مرکزی جماعتیں بھی جمہوریت و شہداء ریلی میں شریک ہوئیں۔

ترک پولیس کے مطابق استنبول میں ہونے والے پروگرام میں پانچ ملین لوگ شریک رہے۔

ترک صدر اردوان نے اس موقع پر کہا کہ آج کی ریلی اور یہ اتحاد ترک دشمنوں کو اتنا ہی تکلیف دہ لگ رہا ہے جتنا سولہ جولائی کی صبح ناگوار محسوس ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ جولائی کی ناکام رات کی اگلی صبح ہاتھ ملنے والے باغیوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ آج کے بعد ان کے لئے ناکامیوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔

ترکی میں جمہوریت کے بچاؤ کے برخلاف رویہ اپنانے پر اردوان نے جرمنی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کردش دہشت گردوں کو ہر طرح کی سہولت دینے والے جرمنی نے انہیں ویڈیو لنک سے خطاب سے منع کر دیا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس دوغلے رویے کے بعد جمہوریت کہاں ہے؟ ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کو پروان چڑھاؤ تاکہ کل یہ تمہارے ہی سر پڑیں۔

ریلی سے اختتامی صدارتی خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان اور عوام نے سزائے موت بحال کرنے کی حمایت کرتے ہیں تو وہ سزائے موت دینے کا قانون رائج کرنے کی منظوری دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 15 جولائی کو ہمارے دوستوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حملوں کے خلاف مضبوط ہے اور فوج کو سبوتاژ کرنے والوں سے بھی مقابلہ کر سکتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کبھی اپنی سمت سے نہیں ہٹے گا کبھی گرے گا نہیں۔

ناکام بغاوت کے سلسلہ میں ینی کبی میدان استنبول کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ترک انقرہ اور استنبول کے تقسیم اسکوائر اور دوسرے شہروں میں بھی جمع تھے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *