امریکی چینل کو ترکی سے متعلق جھوٹی خبر مہنگی پڑگئی

امریکی چینل کو ترکی سے متعلق جھوٹی خبر مہنگی پڑگئی

نیویارک: پندرہ جولائی کو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے موقع پر رجب طیب اردوان کے فرار اور جرمنی سے پناہ مانگنے کی جھوٹی خبر چلانے والا امریکی چینل این بی سی نیوز مشکل میں پڑ گیا۔

دی نیوز ٹرائب ورلڈ ڈیسک کے مطابق جھوٹی رپورٹنگ پر احتجاج کرنے والے ترک صحافیوں اور ترک امریکنز نے این بی سی نیوز کے صدر دفاتر کا گھیراؤ کر لیا۔

اس موقع پر جمع ہونے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی چینل کے مالکان سے ملاقات کروائی جائے تا کہ وہ یہ جان سکیں کہ جھوٹی خبریں چلانے کے باوجود تاحال اس پر معافی کیوں نہیں مانگی گئی۔

یاد رہے کہ این بی سی نیوز نے پندرہ جولائی کی رات یہ خبر چلائی تھی کہ ترکی میں مارشل لاء نافذ ہو گیا ہے جس کے بعد ترک صدر اردوان نے ملک سے فرار ہونے کے بعد جرمنی سے پناہ طلب کی ہے۔

امریکی چینل نے اپنے ذریعے کی شناخت ظاہر کئے بغیر تسلیم کیا ہے کہ اسے یہ اطلاع امریکی فوج کے اعلی افسر کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔

بغاوت کی ناکامی کے بعد اگر چہ این بی سی نیوز نے مذکورہ خبریں ڈیلیٹ کر دی تھیں تا ہم ترک امریکنز اور میڈیا و سول سوسائٹی کی جانب سے کئے گئے مطالبات کے برعکس چینل نے معافی نہیں مانگی۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ این بی سی نیوز اس واقعہ کے بعد میڈیا آرگنائزیشن نہیں کہلا یا جا سکتا۔

راک فیلر پلازہ کے سامنے جمع مظاہرین میں سے ایک شبیل ایدمند نے کہا کہ این بی سی نیوز سی آئی اے اور امریکی محکمہ دفاع کے نمائندہ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جس نے بغاوت میں فعال طور پر اور براہ راست حصہ لیا۔

نیشنل سیکورٹی وسل بلوورز نامی اتحاد کی بانی شبیل کا کہنا تھا کہ امریکی چینل کے رویہ نے ثابت کیا ہے کہ جسے وہ غلطی کہہ رہے ہیں وہ محض معصومانہ غلطی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں سے زیادہ وقت ہو چکا ہے کہ ان کے گروپ سمیت سینکڑوں لوگوں نے امریکی چینل کو رابطہ کر کے غلط رپورٹنگ کرنے پر معافی مانگنے کا کہا ہے لیکن وہ مسلسل بات کو ٹال رہے ہیں۔

دوسری جانب وکی لیکن کے بانی جولین اسانج نے بھی امریکی چینلز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افواہیں پوری دنیا میں گئیں اور بغاوت کو کامیاب کرنے کے لئے استعمال کی جاتی رہیں۔

نیویارک: پندرہ جولائی کو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے موقع پر رجب طیب اردوان کے فرار اور جرمنی سے پناہ مانگنے کی جھوٹی خبر چلانے والا امریکی چینل این بی سی نیوز مشکل میں پڑ گیا۔

دی نیوز ٹرائب ورلڈ ڈیسک کے مطابق جھوٹی رپورٹنگ پر احتجاج کرنے والے ترک صحافیوں اور ترک امریکنز نے این بی سی نیوز کے صدر دفاتر کا گھیراؤ کر لیا۔

اس موقع پر جمع ہونے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی چینل کے مالکان سے ملاقات کروائی جائے تا کہ وہ یہ جان سکیں کہ جھوٹی خبریں چلانے کے باوجود تاحال اس پر معافی کیوں نہیں مانگی گئی۔

یاد رہے کہ این بی سی نیوز نے پندرہ جولائی کی رات یہ خبر چلائی تھی کہ ترکی میں مارشل لاء نافذ ہو گیا ہے جس کے بعد ترک صدر اردوان نے ملک سے فرار ہونے کے بعد جرمنی سے پناہ طلب کی ہے۔

امریکی چینل نے اپنے ذریعے کی شناخت ظاہر کئے بغیر تسلیم کیا ہے کہ اسے یہ اطلاع امریکی فوج کے اعلی افسر کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔

بغاوت کی ناکامی کے بعد اگر چہ این بی سی نیوز نے مذکورہ خبریں ڈیلیٹ کر دی تھیں تا ہم ترک امریکنز اور میڈیا و سول سوسائٹی کی جانب سے کئے گئے مطالبات کے برعکس چینل نے معافی نہیں مانگی۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ این بی سی نیوز اس واقعہ کے بعد میڈیا آرگنائزیشن نہیں کہلا یا جا سکتا۔

راک فیلر پلازہ کے سامنے جمع مظاہرین میں سے ایک شبیل ایدمند نے کہا کہ این بی سی نیوز سی آئی اے اور امریکی محکمہ دفاع کے نمائندہ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جس نے بغاوت میں فعال طور پر اور براہ راست حصہ لیا۔

نیشنل سیکورٹی وسل بلوورز نامی اتحاد کی بانی شبیل کا کہنا تھا کہ امریکی چینل کے رویہ نے ثابت کیا ہے کہ جسے وہ غلطی کہہ رہے ہیں وہ محض معصومانہ غلطی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں سے زیادہ وقت ہو چکا ہے کہ ان کے گروپ سمیت سینکڑوں لوگوں نے امریکی چینل کو رابطہ کر کے غلط رپورٹنگ کرنے پر معافی مانگنے کا کہا ہے لیکن وہ مسلسل بات کو ٹال رہے ہیں۔

دوسری جانب وکی لیکن کے بانی جولین اسانج نے بھی امریکی چینلز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افواہیں پوری دنیا میں گئیں اور بغاوت کو کامیاب کرنے ک

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *