’مذہب اور اسلحے کو ایجنڈا پورا کے لیے استعمال کیا‘

’مذہب اور اسلحے کو ایجنڈا پورا کے لیے استعمال کیا‘

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ گلن تحریک نے اپنا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے مذہب کی آڑ لینے اور اسلحہ کے استعمال پر بھی کوئی خرابی محسوس نہ کی۔

اردوان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیم نے عالمی سطح پر موجود اسکول نیٹ ورک کو استعمال کر کے اپنا پروپیگنڈہ کو آگے بڑھایا ہے۔

انقرہ میں منعقدہ تقریب کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اردوان کا کہنا تھا کہ پنسلوانیا میں موجود دہشت گرد کو اپنے کاموں کے نتائج کی ذمہ داری کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ناکام بغاوت کے منصوبہ سازوں کے مقابلہ کا ہے نہ کہ ان کی نیتوں کے معاملہ میں ابہام کا شکار ہونے کا۔

اردوان نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں مختلف مسائل پیدا کئے جاتے رہے ہیں جب کہ پندرہ جولائی کا خونی واقعہ اس عرصے کے دوران پیش آنے والا افسوسناک لمحہ تھا۔ 238 لوگوں کے مارے جانے کا کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

گلن تحریک کو گزشتہ چالیس برسوں میں تعلیم کی آڑ میں پھیلنے والے وائرس سے تشبیہ دیتے ہوئے اردوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی باقی ترکوں کی طرح اپنے مخالفین سے متعدد ایشوز پر جداگانہ رائے رکھنے کے باوجود چھوٹے سے چھوٹے مشترک پہلوئوں پر بھی معاملہ کیا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہی سمجھتے رہے کہ مذکورہ تحریک مذہبی دائرے میں فعال خیراتی ادارہ ہے۔ اسی وجہ سے ان کی جماعت اے کے پارٹی نے مذکورہ گروپ کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے تمام آسانیاں بھی فراہم کیں،تاہم انہیں افسوس ہے کہ وہ ان کے خفیہ ایجنڈا سے کیوں لا علم رہے۔

اردوان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انہیں اللہ اور ترک قوم کے سامنے جوابدہ ہونا ہے،ان کی دعا ہے کہ قوم اور اللہ ان کی اس غلطی کو معاف کریں۔

اس موقع پر انہیں نے کہا کہ وہ گلن تحریک کے بارے میں 2010 سے ہی مشکوک تھے تاہم 2012 کے بعد سے اس میں اضافہ ہوا۔ ترک فوجی حکام کے خلاف عدالتوں میں کیسز آنے سے بھی وہ مشکوک ہوئے کیونکہ یہ وہ فوجی افسران تھے جن کے ساتھ وہ برسوں سے کام کر رہے تھے اس لئے وہ ان پر لگائے جانے والے الزامات کے قائل نہ ہو سکے۔ تاہم 2013 کی بغاوت کے دوران فیتو کا چہرہ صحیح طرح سے بے نقاب ہوا۔

اردوان کا کہنا تھا کہ اب ابہام کو دور ختم ہو چکا ہے اور جدوجہد کا وقت شروع ہوا ہے۔ اب وقت ہے کہ ترکی کے خلاف اقدام کرنے والے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلن تحریک کے کسی بھی ممبر کو نظر انداز یا معاف کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا۔

ماضی میں کئے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ 2013 میں عدلیہ کی تطہیر کے پیشگی اقدامات حالیہ بغاوت سے درست ثابت ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلن تحریک سے وابستگی کسی کے درست ہونے کی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ غلط راستے پر ہیں۔ فیتو ارکان کا گیارہویں صدی کے فتنہ حسن بن صباح سے موازہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسی طرز پر اچھے خاصے لوگوں کو ایک فرد کو گرویدہ بنا کر قاتلوں اور خودکش بمباروں میں بدلا گیا ہے۔

فوجی ہائی اسکولز کی بندش اور ملٹری اکیڈمیز کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کنٹرول میں لانے کے ساتھ فوجی ہیڈکوارٹر کو وزارت داخلہ کے ماتحت لانے کے اقدام کا ذکر کرتے ہوئےا ردوان کا کہنا تھا کہ دینی اداروں میں بھی اصلاحات کی جائیں گی.

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *