سعودی والد بوسہ دینے پر روکی گئی بیٹی کو برطانیہ آنے دے،انگلش عدالت

سعودی والد بوسہ دینے پر روکی گئی بیٹی کو برطانیہ آنے دے،انگلش عدالت

لندن: برطانیہ کی ایک عدالت نے سعودی والد سے کہا ہے کہ وہ مرد کو بوسہ دینے پر رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی اپنی بیٹی کو واپس برطانیہ آنے دیں۔

برطانوی عدالت نے یہ حکم ایک ایسے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دیا ہے جس میں ہدف بنایا گیا فرد برطانوی شہری بھی نہیں اور برطانیہ میں مقیم بھی نہیں ہے۔

برطانوی جج نے کہا ہے کہ اس خاتون کو برطانیہ آنے کی اجازت دی جائے جس کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے انھیں مرضی کے بغیر سعودی عرب میں قید رکھا ہوا ہے۔

برطانیہ میں پرورش پانے والے 21 سالہ آمنہ الجعفری کو سعودی عرب واپس لے جاتے وقت ان کے والد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مقامی ماحول کی خرابیاں اسے متاثر نہ کریں۔

دوسری جانب برطناوی جج جسٹس ہولمین نے کہا کہ آمنہ کو ’آزادی سے محروم‘ رکھا گیا ہے اور ان کے والد کو ان کی واپسی میں مدد دینی چاہیے۔

یاد رہے کہ آمنہ الجعفری نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انھوں نے ایک مرد کو بوسہ دیا۔

عدالتی حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس ہولمین نے کہا کہ اگر آمنہ ویلز یا انگلستان آنا چاہتی ہیں تو مسٹر الجعفری کو 11 ستمبر تک لازماً اس کی اجازت دینی چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے ہوائی سفر کا کرایہ دینا چاہیے۔

برطانوی جج نے یہ بات تسلیم کی کہ الجعفری اس عدالتی حکم نامے کو ماننے کے پابند نہیں ہیں اور انھیں مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اگر وہ کبھی برطانیہ آئے تو انھیں توہینِ عدالت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلم خاندانوں کو مقامی جنسی کلچر کی صورت میں ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہے جس سے وہ اپنی اولاد کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بیشتر خاندان بچوں کی عمر بڑھتے ہی انہیں واپس اپنے ممالک بھیج دیتے ہیں تاکہ ان کی عزت و عصمت محٖفوظ رہ سکے۔

برطانوی عدالت کے فیصلہ کے متعلق یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس حیثیت میں ایک غیر ملکی والد کو اس کی بیٹی کے متعلق حکم جاری کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *