راولپنڈی میں خطرناک وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

راولپنڈی میں خطرناک وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

اسلام آؓباد:وفاقی دارلحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں کانگو وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کانگو وائرس کا پہلا متاثرہ فرد راولپنڈی کا 60 سالہ شخص الفت حسین ہے جس میں کانگو وائرس کی تشخیص کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کانگو وائرس کے متاثرہ افراد کے جسم سے  انفیکشن کے بعد خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

کانگو وائرس جانوروں کی کھال سے خون چوسنے والے’ٹکس‘ کے ذریعے پھیلاتا ہے۔ ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکس (جراثیم یا ایک قسم کا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ لیکن، جیسے ہی کوئی انسان مثلاً چرواہے یا قصاب یا عام لوگ اس جانور سے کنٹریکٹ میں آتے ہیں یہ ٹکس انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلس کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *