ترکی نے امریکا سے بغاوت کی پشت پر نہ ہونے کا ثبوت مانگ لیا

ترکی نے امریکا سے بغاوت کی پشت پر نہ ہونے کا ثبوت مانگ لیا

انقرہ: ترکی میں پندرہ جولائی کو ہونے والی ناکام فوجی بغاوت اور اس دوران امریکا کے رویے پر ترکی میں عوامی اور میڈیا کی سطح پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

ترک میڈیا رپورٹس میں عوامی رائے عامہ کو بنیاد بنا کر کہا گیا ہے کہ امریکا اس بات کا ثبوت فراہم کرے کہ ترکی میں منتخب حکومت گرانے کے ایڈونچر میں وہ ملوث نہیں ہے۔

ترک میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ جب پارلیمنٹ،صدارتی کمپاؤنڈ اور صدر کی عارضی قیام گاہ بننے والے ہوٹل پر حملہ کیا جا رہا تھا اس وقت امریکا میں ترکی کے نظام پر بات ہو رہی تھی۔ جب جنگی جہاز انقرہ اور اسنتبول پر پرواز کرتے ہوئے سویلینز کو قتل کر رہے تھے اس وقت امریکی میڈیا ترک صدر کے جرمنی میں پناہ لینے کی افواہیں پھیلا رہا تھا۔ جب ترک ٹی وی چینلز پر حملہ کر کے اینکرز کو مجبور کیا جا رہا تھا کہ وہ فوجی قبضے کی خبریں پڑھیں امریکی میڈیا یہ اطلاعات دے رہا تھا کہ اقتدار پر فوج نے اقتدار پر قبضہ مکمل کر لیا حالانکہ اس وقت لاکھوں لوگ سڑکوں پر بغاوت کے خلاف موجود تھے۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام کے ترکی ڈیسک کے مطابق ترک میڈیا رپورٹس میں امریکی رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر کو آمرانہ طرز عمل کا الزام دینے والے امریکی میڈیا ہاؤسز یہ بھول رہے ہیں کہ پندرہ جولائی کہ رات ترکی میں کوئی کسی مخصوص پارٹی کا ورکر نہیں تھا۔ بلکہ سڑکوں پر موجود عوام صرف آزادی پسند ترک تھے جو ٹینکوں اور گنز کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہو کر اپنے جمہوری حق کو بچانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔

ترک سرکاری اخبار صباح نے اپنے اداریہ می لکھا کہ پوری ترک قوم اپنے اتحادی کے اس رویہ پر شاکی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ امریکا پندرہ جولائی کی بغاوت کے پس پردہ ویسے ہی موجود ہے جیسے اس نے 1980 کی فوجی بغاوت کے دوران کیا تھا۔

امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ متاثرین پر الزام دھرنے کی روش کو ترک کر کے بغاوت کی برملا مذمت کرے اور یہ باور کروائے کہ وہ جمہوریت کی پشت پر کھڑا ہے تاکہ اسے ترکوں کا کھویا ہوا اعتماد حاصل ہو سکے۔

ترک میڈیا نے امریکی رویے کے درست نہ ہونے کی صورت میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ اور آنے والی حکومتوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ امریکا اور ناٹو سے اتحاد کو کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی و دیگر مغربی میڈیا رپورٹس میں پیدا کردہ سول آمریت کے تاثر کو خود ترک صدر رجب طیب اردوان مسترد کر چکے ہیں۔ پچیس جولائی کو ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ سلطان نہیں ہیں بلکہ ایک منتخب صدر ہیں جو عوام کے 52 فیصد ووٹ لے کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کوئی بادشاہت نہیں بلکہ قانون کی جمہوری ریاست ہے۔

صدر اردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی دوستوں اور انتظامی عہدیداروں کا ترکی کے ساتھ رویہ غیر مخلصانہ ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *