ہمارا شوٹر،ان کا دہشت گرد،رابرٹ فسک کا سوال

ہمارا شوٹر،ان کا دہشت گرد،رابرٹ فسک کا سوال

لندن:مختلف جنگوں کی کوریج کرنے والے ایوارڈ یافتہ برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے مغربی دنیا سے سوال کیا ہے کہ مارنے والا ہمارا ہو تو شوٹر اور اگر مسلم ہو تو دہشت گرد کن بنیادوں پر کہا جائے گا۔

برطانوی اخبار میں شائع شدہ اپنے کالم میں رابرٹ فسک کا کہنا تھا کہ جمعہ کی رات اور ہفتہ کی صبح کابل اور میونخ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے خونی واقعات کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ سے منافقت اور دوغلا پن کھل کر عیاں ہو گیا ہے۔

رابرٹ فسک نے کہا کہ وہ ‘دہشت’ کے لفظ سے سخت تنگ ہیں کیونکہ بہت عرصہ سے ہر سیاستدان،پولیس مین،صحافی اور تھنک ٹینک خبطی اپنی گفتگو میں اسے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔

جرمنی میں ہوئے حملے کا ذکر کرتے ہوئے رابرٹ فسک کا کہنا تھا کہ پہلے خبر آئی کہ تین مسلح افراد اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہیں تو بی بی سی،سی این این اور فاکس نیوز کے نمائندوں نے اپنی انگلیوں پر گن گن کر بتایا کہ یہ کس درجے کی دہشت گردی کی کارروائی ہے۔

مقامی پولیس افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے تحت کارروائی کر رہے ہیں اور ہم جانتے تھے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ کیونکہ وہ تینوں افراد مسلمان تھے۔چنانچہ ان کے دہشت گرد ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

رابرٹ فسک نے خبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر بعد اطلاع آئی کہ واقعے میں تین نہیں صرف ایک آدمی ملوث ہے،ایرانی النسل لیکن جرمنی میں پیدا ہونے والے شخص کو جنونی کہا گیا۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی میڈیا کے علاوہ سی این این اور دیگر چینلز نے اپنے بیانیے میں فورا ترمیم کرتے ہوئے دہشت گرد کی جگہ شوٹر کی رٹ لگا دی۔ حتی کہ برطانیہ کے ایک اخبار نے چند پیراگرافس میں لفظ شوٹر چودہ مرتبہ استعمال کیا۔

رابرٹ فسک نے میڈیا کے اس رویے کی توجیح کرتے ہوئے کہا کہ یقینا لفظ شوٹر اتنا خطرناک معلوم نہیں ہوتا جتنا دہشت گرد،اگر چہ دونوں کی چلائی ہوئی گولیوں کا نتیجہ ایک نکلتا ہے۔ شوٹر ایک سلجھا ہوا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کہ فائرنگ کر کے انسانوں کو موت دینے والا مسلمان نہیں ہے۔

بزرگ برطانوی صحافی  نے کابل میں ہزارہ برادری پر ہوئے خود کش حملہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کسی مغربی اخبار نے اس قتل عام کو دہشت گردی نہیں لکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے اسے دہشت گردی قرار دیا لیکن ہم نے لفظ حملہ آور یا خود کش استعمال کئے لیکن اسی افراد کی ہلاکت کو دہشت گردی نہیں کہا۔

رابرٹ فسک کا کہنا تھا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک مسلمان یورپ میں ایسی کارروائی کرنے پر دہشت گرد کہلاتا ہے لیکن جنوب مشرقی ایشیاء میں ایسا کرنے پر وہ محض حملہ آور ہی قرار پاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مارے جانے والے مغربی ہوں تو حملہ آور دہشت گرد اور اگر مرنے والے بھی مسلمان ہوں تو حملہ آور صرف شوٹر ہو جاتا ہے۔ جس گھڑی میونخ کے دہشت گرد علی سنوبل کا علم ہوا کہ وہ ابوبکر البغدادی سے نہیں بلکہ ناروے کے اندروس بروک سے متاثر ہے اسی لمحے وہ شوٹر بن گیا تھا۔

رابرٹ فسک نے اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مارنے والا ہی نہیں بلکہ مرنے والوں کے بارے میں بھی مغربی میڈیا کا رویہ دوغلا ہے۔ یورپ میں رہنے والے مسلمان ہدف بنیں تو قتل ہو گا،اگر انہوں نے مارا تو دہشت گردی۔ جب کہ  مغربی میڈیا نے کابل کے واقعہ کو ایسے بیان کیا جیسے فٹ بال میچ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا ہو۔

کئی کتابوں کے مصنف اور ایوارڈ یافتہ صحافی نے سوال کیا کہ اگر مسلمان حملہ آور ہوں تو دہشت گرد اور اگر ہم ان پر حملہ آور ہوں تو ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے محافظ۔۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *