ترک بغاوت کے پیچھے امریکی جنرل کا ہاتھ

ترک بغاوت کے پیچھے امریکی جنرل کا ہاتھ

انقرہ:ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے امریکی جنرل جان کیمبل کا ہاتھ نکلا۔

دی نیوز ٹرائب کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی جنرل جان کیمبل ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے پیچھے تھے۔

ینی سفک نامی ترک سرکاری اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا یے کہ 2 ماہ پہلے تک افغانستان میں امریکی فوجی اتحاد کی نگرانی کرنے والے سابق فوجی جرنل جان کیمبل نے سی آئی اے کے ذریعے فوجی بغاوت میں ملوث عناصر کو پیسہ فراہم کیا اور انجر لک ائیر بیس میں خفیہ ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

انجر لک وہی ائیر بیس ہے جہاں امریکی اتحادی فوجی روزانہ کی بنیادوں پر شام اور عراق میں داعش کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی جنرل جان کیمبل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جنرل سے گفتگو میں کہا ہے کہ ترک اخبار نے الزام لگاتے ہوئے ان کا موقف لینے کی زحمت نہیں کی۔

ترک سرکاری اخبار کی جانب سے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ترکی کے معاملات میں شدید تنائو کی سی کیفیت ہے۔

ترکی نے باغی فتح اللہ گولن کی حوالگی کے لئے امریکا کو خط بھی لکھ رکھا ہے تاہم اگر امریکا باغی فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے نہیں کرتا تو اس سے امریکی کردار کھل کر سامنے آ جائے گا۔

دوسری جانب ملک میں جاری کریک ڈائون کے نتیجے میں اب تک 5 صحافیوں سمیت 31 تعلیمی ماہرین کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ابھی مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *