ترک باغیوں کا امریکی کرنسی کا انوکھا استعمال

ترک باغیوں کا امریکی کرنسی کا انوکھا استعمال

استنبول:ترکی میں پندرہ جولائی کی شب کی جانے والی ناکام بغاوت میں فتح اللہ گلن کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کوشش کے ساتھ ساتھ 1ڈالر کے بل کے انوکھے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام کو دستیاب اطلاعات  کے مطابق مشتبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے پاس ایک ڈالر کا کرنسی نوٹ پایا گیا ہے۔ چھان بین کے دوران تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا کہ امریکا میں مقیم گلن کے پیشوا اس کرنسی کو ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کے بعد تفتیشی اداروں  نے کرنسی کےایسے استعمال کی اطلاعات کے بعد  چھان بین شروع کی تو بیشتر مشتبہ افراد کے پاس سے ایک ڈالر کا کرنسی نوٹ برامد ہوا۔

امریکی کرنسی نوٹ کی موجودگی اور اس کے حتمی استعمال کی باقاعدہ وضاحت ہونی باقی ہے تاہم یہ بات تقریبا واضح ہے کہ اس کی موجودگی کے دونوں مقاصد ہیں جن میں خوش قسمتی یا برکت کا حصول اور باہم شناخت بھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حزمت تحریک کے پیروکار اپنی پراسراریت کی بنا پر بھی جانے جاتے ہیں خاص طورپر عدلیہ،پولیس اور بیوروکریسی میں شامل ہونے کے بعد وہ اپنے اصل ہدف یعنی ریاست پر کنٹرول تک اپنی شناخت چھپا کر رکھتے ہیں۔

گلن تحریک کے سابق پیروکاروں کا کہنا ہے کہ ایک ڈالر کا نوٹ اپنے پاس رکھنے کی روایت کا تعلق فتح اللہ گلن کے مرحوم استاد سے ہے۔ گلن رضاکاروں کا ماننا ہے کہ اس نوٹ کی موجودگی انہیں بدقسمتیوں سے بچائے رکھنے کی وجہ ہے۔

دوسری جانب ترک صدر اردوان کا کہنا ہے کہ پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت والی شام ترک قوم جتنی مضبوط تھی اس کے بعد کے حالات میں وہ مزید طاقتور ہو کر سامنے آئی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *